تصویر · فیس بک
لوگوں کے حق کے لیئے آواز اٹھانا جرم بن گیا، جموں کشمیر اخبار کے رپورٹر اور پیج اپنا دیس کے ایڈمن زاہد سلطانی گرفتار اور ساتھ میں کھوئی رٹہ ویلی کے ایڈمن سرفراز جہنوں نے کافی عرصہ سے پیچ پر کسی قسم کی کوئی نیوز بھی اپڈیٹ نہیں کی تھی انھیں بھی گرفتار کر لیا گیا اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ بھی مقبوضہ کشمیر ہے جہاں پر بولنے لکھنے کی آزادی حاصل نہیں ؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ جو قومی اخبارات کے رپورٹرز ہیں انھیں سوشل میڈیا کے استعمال سے روکا جائے۔ یہ ایف آئی آر کھوئی رٹہ پریس کلب کی جانب سے . تحصیل پریس کلب کھوئی رٹہ پر کی کی گئی تھی ،اور کھوئی رٹہ آزاد کشمیر کا وہ پہلا حلقہ ہے جہاں یہ قدغن لگائی گئی، اور کھوئی رٹہ پریس کلب جس کی طرف سے ایف آئی آر کروائی گئی اس گروپ میں شامل لوگ آزاد طریقہ سے شوشل میڈیا استعمال کر رہے ہیں جبکہ ایف آئی آر کے درخواست گزار خود ہر طرح کی خبر بیان شوشل میڈیا پر ڈالتے ہیں تو پھر ہمارے ساتھیوں سے دوہرا معیار کیوں اپنایا جا رہا ہے ،اور ہم آزادی اظہار پر یقین رکھتے ہیں۔ زاہد سلطانی ماسٹر ڈگری ہولڈر کے ساتھ ساتھ ٹانگوں اور ہاتھوں سے معذور بھی ہیں۔




