بریکنگ
کھوئی رٹہ کے نوائی گاوں کراس بھینسہ میں قتل کی لرزہ خیز واردات ، سرعام گولیاں چل گئیں۔ خاتون نے قتل ہونے سے قبل 16 اپریل 2020 کو تحصیل پریس کلب کھوئی رٹہ میں مجیب اکبر راجہ کوانٹرویو دیتے ہوئے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا تھا کہ مجھے ان افراد سے جان کا خطرہ ہے یہ مجھے قتل کر دیں گئے اس لیے پولیس مجھے تحفظ دے مگر افسوس آج خاتون نیلم کو قتل کر دیا گیا۔پاکستان کے زیرِ انتظام آزاد کشمیر کے شہری اور طلباء گزشتہ ڈھائی ماہ سے انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم، تعلیم، روزگار اور روزمرہ رابطوں پر کیا اثرات پڑ رہے ہیں؟شاداب سکندر خان نے بیرسٹر افتخار گیلانی کو ٹیکنوکریٹ کی مخصوص نشست کا ٹکٹ ملنے پر مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔مسلم لیگ ن کی پوری قیادت سے صرف اتنا عرض ہے کہ اسلام میں وعدہ محض سیاسی مصلحت نہیں بلکہ ایک امانت اور ذمہ داری ہے۔ قرآنِ کریم کا واضح حکم ہے:کھوئی رٹہ کے نوائی گاوں کراس بھینسہ میں قتل کی لرزہ خیز واردات ، سرعام گولیاں چل گئیں۔ خاتون نے قتل ہونے سے قبل 16 اپریل 2020 کو تحصیل پریس کلب کھوئی رٹہ میں مجیب اکبر راجہ کوانٹرویو دیتے ہوئے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا تھا کہ مجھے ان افراد سے جان کا خطرہ ہے یہ مجھے قتل کر دیں گئے اس لیے پولیس مجھے تحفظ دے مگر افسوس آج خاتون نیلم کو قتل کر دیا گیا۔پاکستان کے زیرِ انتظام آزاد کشمیر کے شہری اور طلباء گزشتہ ڈھائی ماہ سے انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم، تعلیم، روزگار اور روزمرہ رابطوں پر کیا اثرات پڑ رہے ہیں؟شاداب سکندر خان نے بیرسٹر افتخار گیلانی کو ٹیکنوکریٹ کی مخصوص نشست کا ٹکٹ ملنے پر مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔مسلم لیگ ن کی پوری قیادت سے صرف اتنا عرض ہے کہ اسلام میں وعدہ محض سیاسی مصلحت نہیں بلکہ ایک امانت اور ذمہ داری ہے۔ قرآنِ کریم کا واضح حکم ہے:

کھوئی رٹہ کے نوائی گاوں کراس بھینسہ میں قتل کی لرزہ خیز واردات ، سرعام گولیاں چل گئیں۔ خاتون نے قتل ہونے سے قبل 16 اپریل 2020 کو تحصیل پریس کلب کھوئی رٹہ میں مجیب اکبر راجہ کوانٹرویو دیتے ہوئے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا تھا کہ مجھے ان افراد سے جان کا خطرہ ہے یہ مجھے قتل کر دیں گئے اس لیے پولیس مجھے تحفظ دے مگر افسوس آج خاتون نیلم کو قتل کر دیا گیا۔

کھوئی رٹہ کے نوائی گاوں  کراس بھینسہ میں قتل کی لرزہ خیز واردات  ،  سرعام گولیاں چل گئیں۔ خاتون نے قتل ہونے سے قبل 16 اپریل 2020 کو تحصیل پریس کلب کھوئی رٹہ میں مجیب اکبر راجہ کوانٹرویو دیتے ہوئے اس بات کا خدشہ  ظاہر کیا تھا کہ مجھے ان افراد سے جان کا خطرہ ہے یہ مجھے قتل کر دیں گئے اس لیے پولیس مجھے تحفظ دے مگر افسوس آج خاتون نیلم کو قتل کر دیا گیا۔