گاوں پٹو میں سحری کے وقت ایک دلخراش حادثہ پیش ایا ...

ایک نہایت غریب جوان نظیر خان جس کا کمر غربت نے پہلے ہی توڑا تھا ..

اج سحری کے بعد دو کمسن بیٹیوں کے ہمراہ گھر کے کچے کمرے میں تھا ..خود جاگا تھا جبکہ بیٹیاں سورہی تھی ...

اچانک ایک اواز سنا تو انہوں نے محسوس کیا کہ کمرے کا لکڑی کا پیلر ....بش ....تیر........ٹوٹ رہا ھے ..یہ جلدی باہر ایا لیکن باہر اکر بیٹیوں کی فکر نے اور ان کو بچانے کی خاطر واپس کمرے میں چلا گیا اور یو بھر پور کوشش کی ایک بیٹی گود میں اٹھا کر دوسری بیٹی اٹھاتے ہی اوپر سے چھت گر کر تینوں مھٹی تلے دھب گیے ....جب گاوں کے لوگ جمع ہوکر امدادی کام شروع کردی تو بدقسمتی سے ان کو زندگی کی اثار کی بجایے تین لاشیں ملی.....اور اسی طرح ایک باپ نے اپنی پیاری بیٹیوں کو بچانے کی خاطر اپنی زندگی کا قربانی دیکر شہادت نوش کرکے تاریخ رقم کردی ..

مرحوم کی بیوی اور ادو چھوٹے بیٹےاس لیے محفوظ رہے کہ ماں کیچن کے کام میں تھی ..اور بیٹا ماں کے ساتھ تھا ..جبکہ ایک چھوٹا بیٹا رات کو نانا کے گھر گیا تھا.....

تو یو باپ دو بیٹیوں کو گود دیکر قبر میں چلا گیا جبکہ ماں دو بیٹوں کے ساتھ سلامت رہی .....

افسوس ......