مقامی صحافی دانش ارشاد
راولاکوٹ میں کئی ہفتوں سے فائرنگ کی آوازیں سننے کے عادی بعض شہریوں کے لیے 16 اور 17 اگست کی درمیانی شب غیر معمولی طور پر خاموش تھی۔ یہ خاموشی جہاں ایک لمحے کے لیے سکون کا باعث بنی، وہیں بعض لوگوں کے ذہنوں میں ایک نیا سوال بھی چھوڑ گئی کہ کیا حالات واقعی بدل رہے ہیں یا یہ خاموشی کسی نئی پیش رفت کا پیش خیمہ ہے؟
17 اگست کی صبح راولاکوٹ سے ایک دوست کی فون کال موصول ہوئی۔ گفتگو کے آغاز میں ان کے لہجے میں خوشگوار حیرت نمایاں تھی۔
انھوں نے بتایا کہ 5 جون کے بعد یہ پہلی رات تھی جب فائرنگ کی کوئی آواز سنائی نہیں دی۔
لیکن گفتگو آگے بڑھی تو اس خوشگوار حیرت کے ساتھ تشویش بھی شامل ہوگئی۔
ان کے مطابق گزشتہ شام شہر میں چند بڑی گاڑیاں دیکھی گئی تھیں، جن کی نقل و حرکت بظاہر کسی وی آئی پی موومنٹ جیسی محسوس ہوتی تھی۔ تاہم یہ واضح نہیں تھا کہ ان گاڑیوں میں کون موجود تھا، ان کی آمد کا مقصد کیا تھا اور آیا اس نقل و حرکت کا رات کی غیر معمولی خاموشی سے کوئی تعلق تھا بھی یا نہیں۔
اسی غیر یقینی کے درمیان سوال یہ تھا کہ یہ پُرسکون رات محض اتفاق تھی، حالات میں کسی تبدیلی کا اشارہ یا کسی اہم پیش رفت سے پہلے کی خاموشی؟
فی الحال اس سوال کا کوئی واضح جواب نہیں۔
تاہم مسلسل بے یقینی کے ماحول میں رہنے والے لوگوں کی روزمرہ زندگی پر حالات کے اثرات کا اندازہ ایک مختصر سے مقامی جملے سے لگایا جا سکتا ہے۔
صبح حالات کا ذکر ہوا تو والدہ نے پہاڑی زبان میں کہا:
”آج راتی تے ٹھس وی نہیں ہوئی۔“
یعنی آج رات تو فائرنگ کی ایک آواز بھی سنائی نہیں دی۔
بظاہر یہ ایک معمولی سا جملہ ہے، لیکن ایک ایسے ماحول میں جہاں رات کی خاموشی غیر معمولی محسوس ہونے لگے، یہی چند الفاظ حالات کی پوری کیفیت بیان کرتے ہیں۔
جب فائرنگ نہ ہونے والی رات لوگوں کے لیے قابل ذکر واقعہ بن جائے تو خاموشی صرف سکون نہیں دیتی، اپنے ساتھ کئی سوال بھی لے کر آتی ہے۔




