حویلی حلقہ ایل اے 17 حویلی سے آزاد امیدوار خواجہ طارق سعید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے حلقے میں ہونے والی مبینہ انتخابی دھاندلی کے شواہد موجود ہیں اور اس سلسلے میں انہوں نے الیکشن کمیشن سے باضابطہ درخواست جمع کروانے کا فیصلہ لیا ہے
انہوں نے کہا کہ راستے بند ہونے کے باعث درخواست بروقت جمع نہ ہو سکی تاہم اب تمام ضروری دستاویزات الیکشن کمیشن کو فراہم کی جائیں گے ۔ ان کا کہنا ہے فارم 24 کے ریکارڈ کے مطابق 15 پولنگ اسٹیشنز کے علاوہ ان کے مجموعی ووٹ 22,300 بنتے ہیں۔
خواجہ طارق سعید نے الزام عائد کیا کہ وزیراعظم کی رہائش گاہ میں مبینہ طور پر بیلٹ پیپرز پر ٹھپے لگائے گئے جبکہ تین افراد کی جانب سے 700 ووٹ ڈالنے کی ویڈیو بھی موجود ہے جو جلد منظر عام پر لائی جائے گی۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ان کے لوگوں کو روکا گیا اور بعض فارم 24 میں ان کے ووٹ وزیراعظم کے کھاتے میں منتقل کر دیے گئے جبکہ ایک مقام پر وزیراعظم کے 34 ووٹ ان کے حصے میں درج کر دیے گئے اور میرے 500 ووٹ انکے حصے میں درج کر دئیے
الیکشن کمیشن پر لازم ہے کہ قانون کے مطابق شفاف انتخابات کو یقینی بنائے اور اس مقصد کے لیے انہیں مکمل اختیارات حاصل ہیں۔کل ہونے والی سماعت میں تمام فارم 24 اور دیگر دستاویزی شواہد الیکشن کمشنر کے سامنے پیش کیے جائیں گے جبکہ مصدقہ نقول کے حصول کے لیے بھی درخواست دی جائے گی۔
خواجہ طارق سعید کا کہنا تھا کہ انہیں کسی امیدوار کو زیادہ ووٹ ملنے پر اعتراض نہیں لیکن اصل عوامی مینڈیٹ کو تبدیل کرنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض مقامات پر مختلف امیدواروں کے الگ الگ نتائج موجود ہیں جبکہ ان کے پاس موجود فارم 24 پر سرکاری مہر اور دستخط موجود ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مبینہ طور پر عوامی مینڈیٹ کی چوری پر لوگ احتجاج کر رہے ہیں خواتین بھی سڑکوں پر نکل آئیں اور مختلف مقامات پر دھرنے دیے گئے۔ ان کا مؤقف تھا کہ گزشتہ دس سال کے انتخابی ریکارڈ کے برعکس بعض پولنگ اسٹیشنز پر غیر معمولی تعداد میں یکطرفہ ووٹ ڈالے گئے جس پر عوام شدید تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔



