آزادکشمیر کے حویلی حلقے کا انتخاب اب صرف ایک امیدوار کی جیت یا شکست کا معاملہ نہیں رہا بلکہ انتخابی شفافیت پر ایک اہم سوال بن چکا ہے

محسن عزیز کا دعویٰ ہے کہ پولنگ اسٹیشنوں سے جاری دستخط شدہ نتائج میں وہ برتری پر تھے، لیکن حتمی نتیجہ ان کے حق میں نہیں آیا۔ اگر یہ دعویٰ درست ہے تو الیکشن کمیشن کو واضح کرنا چاہیے کہ نتائج میں تبدیلی کیسے اور کیوں ہوئی؟

عوام کے سامنے ہر پولنگ اسٹیشن کا اصل نتیجہ مسترد ووٹوں کی تعداد، دوبارہ گنتی کی تفصیل اور کسی بھی تبدیلی کی قانونی وجہ رکھی جائے۔ اس کے بعد فیصلہ عوام خود کر سکتے ہیں

فیصل ممتاز راٹھور سمیت ہر امیدوار کی کامیابی قابلِ احترام ہے لیکن جیت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب انتخابی عمل شفاف اور قابلِ تصدیق ہو

محسن عزیز کا معاملہ صرف ایک امیدوار کا نہیں؛ یہ حویلی کے ہر ووٹر کے حقِ رائے دہی کا سوال ہے

سوال بہت سادہ ہے اگر پولنگ اسٹیشنوں کے دستخط شدہ نتائج میں محسن عزیز آگے تھے تو حتمی نتیجے میں وہ پیچھے کیسے ہوگئے؟

الیکشن کمیشن کو اس سوال کا جواب دستاویزات کے ساتھ دینا چاہیے کیونکہ ووٹ صرف ایک کاغذ نہیں عوام کی امانت ہے