تو کیا یہ سمجھا جائے کہ تحریکِ آزادیٔ کشمیر کے بیس کیمپ، پاکستان کے زیرِ انتظام آزاد کشمیر کی صورتِ حال یہ ہے کہ برطانیہ میں بیٹھا ایکٹوسٹ عاشق فردوسی، کھوئی رٹہ آزاد کشمیر ایس ایچ او کھوئی رٹہ شہر کے رہائشی تاجر کے بیٹے راجہ عقیل ربنواز پر پولیس کا وحشیانہ تشدد پر ویڈیو نہیں بناتا آزاد کشمیر کی انتظامیہ کوئی ٹھوس ایکشن نہیں لیتی !
مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ ایک ایسی تحصیل، جہاں دو پریس کلب موجود ہوں اور صحافیوں کی تعداد گوالوں یا درزیوں سے بھی زیادہ ہو، وہاں بھی مظلوم کی آواز دب کر رہ جائے؟




