آزاد کشمیر کے عبوری آئین میں اسمبلی کی مدت ختم ہونے کے بعد الیکشن کے علاوہ کوئی راستہ نہیں، آزاد کشمیر میں انتخابات کسی صورت ملتوی نہیں ہوں گے

وفاقی حکومت یا آزاد کشمیر حکومت وہاں ایمرجنسی لگانے کے حق میں نہیں ہیں، الیکشن کے التوا یا ایمرجنسی کا نفاذ ایک غیر آئینی اقدام ہوگا

بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں واضح کیا کہ وہ آزاد کشمیر میں بروقت الیکشن چاہتے ہیں، تشدد کا راستہ نہ پیپلز پارٹی برداشت کر سکتی ہے اور نہ ہی کوئی دوسری حکومت

احتجاج کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 4 جوان شہید ہو چکے ہیں، اب کسی بھی صورت مزید جانی نقصان کی اجازت نہیں دی جا سکتی، ملکی تاریخ میں لاء اینڈ آرڈر کے باعث ایک دو حلقوں کے الیکشن ملتوی ہونے کی مثالیں موجود ہیں

راولا کوٹ کے مخصوص حلقے میں مسئلہ ہوا تو وہاں الیکشن ملتوی کرنے کا آپشن ہو سکتا ہے، تاہم ابھی اس پر بات نہیں ہو رہی، مذاکرات کے راستے حکومت نے نہیں بلکہ دوسری طرف سے بند کیے گئے ہیں

دھرنا دینے والوں کو عقل اور فہم سے کام لیتے ہوئے احتجاج ختم کرنا چاہیے، مولانا فضل الرحمان کو پارلیمنٹ میں تقریر کے لیے دھرنا دینے والوں نے ہی پیغام بھیجا تھا

اگر حلف نامے میں پاکستان سے الحاق کی عبارت پر اعتراض ہے، تو یہ سوچ کشمیر اور پاکستان کے حق میں نہیں، مظاہرین کے ذہنوں میں پاکستان سے الحاق کے خلاف سوچ ڈالنے کے پیچھے بیرونی ہاتھ اور بیرونی ایجنڈا ہے، ہمارے پاس واضح شواہد موجود ہیں کہ آزاد کشمیر میں افرا تفری پھیلانے کے پیچھے بیرونی سازش کار فرما ہے