٭ حکومت آزادکشمیر اور حکومت پاکستان کی کال پر یوم استحصال کے سلسلہ میں ضلع میرپور میں احتجاجی جلسے و جلوس منعقد ہوئے۔

٭ یوم استحصال کے سلسلہ میں ضلع کچہری سے ڈپٹی کمشنرراجہ طاہرممتاز خان اور ایس ایس پی راجہ عرفان سلیم کی قیادت میں جلوس نکالا گیا۔

٭ شرکاء جلوس نے سیاہ جھنڈے اٹھا رکھے تھے اور بھارت کے خلاف بھرپور نعرہ بازی کر رہے تھے۔

٭ ضلع میرپورکے وکلاء نے بار روم سے چوک شہیداں تک احتجاجی ریلی نکالی اور چوک شہیداں میں بھارتی غیرقانونی اقدام کے خلاف علامتی بھوک ہڑتال کی۔

٭ چوک شہیداں میں دونوں اطراف کی روڈ پر شامیانے لگا کر احتجاجی جلسہ کا وسیع پنڈال بنایا گیا تھا۔

٭ اسٹیج کے لیے ایک بڑے ٹرک کا استعمال کیا گیا تھا۔

٭ شرکاء جلسہ کے لیے کرسیوں اور پنکھوں کا وسیع اہتمام کیا گیا تھا۔

٭ شدید گرمی کے باوجود شرکاء نے مقررین کی تقاریر سنی۔

٭ جلسہ گاہ میں تمام سیاسی وسماجی جماعتوں کے مقامی راہنما ؤں،خواتین سمیت زندگی کے ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

٭ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض جنرل سیکرٹری ڈسٹرکٹ بار ایسو سی ایشن راشد ندیم بٹ نے سرانجام دیے۔

٭ صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن مرزا قمر الزمان ایڈووکیٹ نے مختلف قراردادیں پیش کیں جن کو اتفاق رائے سے منظور کر لیاگیا۔

٭ پیپلزپارٹی کے ضلعی صدر چوہدری قاسم مجید نے جذباتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تحریک آزادکشمیر کے سلسلہ میں آزادکشمیر کی تمام سیاسی جماعتیں ایک ہیں کوئی بھی لیڈر اس حوالے سے لیڈ کرسکتا ہے۔

٭ دیگر مقررین میں زیادہ تعداد سینئر وکلاء کی تھی جنھوں نے آرٹیکل 370اور 35Aکے خاتمہ کے غیر قانونی اقدام پر کھل کر بات کی۔

٭ جلسہ گاہ میں خواتین بھی موجود تھیں۔

٭ چوک شہیداں تا قائدا عظم چوک تک سڑک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند تھی اور مکمل شٹر ڈاؤن تھا۔

٭ جلوس اور جلسہ کے شرکاء کے حفاظتی انتظامات کے لیے پولیس کی طرف سے سیکورٹی کے زبردست انتظامات تھے۔

٭ ٹریفک پولیس نے جلسہ گاہ کی طرف آنے جانیوالوں کے لیے متبادل انتظامات کر رکھے تھے۔

٭ یوم استحصال کے سلسلہ میں ڈپٹی کمشنرراجہ طاہرممتاز خان نے چوک شہیداں میں فضاء میں سیاہ غبارے چھوڑے۔

٭ اسسٹنٹ کمشنرمنیراحمدقریشی جلسہ گاہ اور جلوس کے جملہ انتظامات کاآخرتک جائزہ لیتے رہے۔

٭ جلسہ گاہ میں پرنٹ والیکٹرانک میڈیا کے نمائندگان نے بھرپورشرکت کی اور میڈیاکوریج کرتے رہے۔