منشیات فروش معاشرے کے ناسور اور انسانیت کے قاتل ہیں، سوشل میڈیا پر کام کرنے والے مافیاکے خلاف کارروائی جاری ہے
راجہ مشتاق نوابی انٹرنیشنل ہیروئن سمگلنگ گروہ عدالت سے سزاء یافتہ ہے، آلہ کاروں کو بھی عبرت کا نشان بنائیں گے
ایس ایس پی ضلع میرپور عرفان سلیم نے پریس ریلیز میں بتایا ہے کہ معاشرے میں منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کا غلط استعمال نوجوان نسل کو تباہی کی طرف لے جارہا ہے۔ نوجوان نسل میں بے راہ روی کی سب سے بڑی وجہ دین سے دوری اور تربیت میں کمی ہے۔ والدین کے ساتھ ساتھ درسگاہوں میں بچوں کو اخلاقیات کی تعلیم دینے اور کردار سازی کرنے پرپوری طرح توجہ نہیں دی جاتی جس وجہ سے بچے کم عمری میں ہی بے راہ روی کا شکار ہو کر اخلاقی جرائم میں ملوث ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا استعمال کرنے کی سہولت دینا انکی اپنی بربادی کا باعث بن رہا ہے۔ مزید کہا کہ منشیات فروش معاشرہ کے ناسور اور انسانیت کے قاتل ہیں انھیں کیفر کردار تک پہنچانا پولیس کی ذمہ داری ہے اور اگر یہ قانونی دسترس سے بچ جائیں تو پھر معاشرہ تباہی سے نہیں بچ سکتا۔ گزشتہ سال کوٹلی میں پولیس نے راجہ مشتاق نوابی انٹرنیشنل ہیروئن سمگلنگ گروہ پر ہاتھ ڈالا تھا جو پچھلے 29سال سے ہیروئن کی بیرون ممالک سمگلنگ میں ملوث چلا آ رہا تھا۔ اس منظم گروہ کے 12ارکان کو گرفتار کر کے ان کے قبضہ سے 16لیدر جیکٹس 14کلو گرام سے زائد ہیروئن جو برطانیہ بھجوائی جا رہی تھی کے علاوہ 40 لاکھ روپے ڈرگ منی، خام مال، ڈرگ منی سے خریدہ کردہ 2گاڑیاں اور ایک بے نامی بنک اکاؤنٹ جس میں 10 کروڑ 22لاکھ روپے کی ڈرگ منی ٹرانسفر ہوئی تھی برآمد کیں۔ اس گروہ کے ملزمان ساجد نوابی، امجد نوابی، حافظ منصور سلطانی اور حبیب شاہ اس دوران مقامی پولیس کے چند افسران کی مدد سے دوبئی فرار ہو گئے تھے۔ امجد نوابی اور ساجد نوابی جب فرار ہوئے تھے تو ان کے پاس مشتاق نوابی کی 13لیدر جیکٹس بھی تھیں جن میں 10 کلو گرام سے زائد ہیروئن پیک تھی۔ ان ملزمان نے دوبئی سے پولیس کو بلیک میل کرنے کے لئے دو صحافیوں کی مدد سے میڈیا ٹرائل کیا تھالیکن پولیس مرعوب نہ ہوئی اور اپنی کارروائی جاری رکھی۔گرفتار 12 ملزمان میں سے 9 ملزمان کو ٹرائل کورٹ کوٹلی سے ایک سال سے لے کر 8سال تک کی سزائیں سنائی گئیں۔مجرمان نے سزاء یابی کے خلاف اعلیٰ عدالتوں میں اپیلیں دائر کر رکھی ہیں۔ حافظ ساجد نوابی جو اُس عرصہ میں دوبئی فرار ہو گیا تھا رواں سال واپس آیا اور کوٹلی ٹرائل کورٹ سے منشیات کے مقدمات میں عبوری ضمانت کروا کے ہائی کورٹ سے پولیس کارروائی کے خلاف Stay order حاصل کر لیا جس کا ابھی فیصلہ ہونا باقی ہے۔دو ماہ قبل ساجد نوابی کو سوشل میڈیا پر پولیس افسران کو بلیک میل کرنے کے ایک مقدمہ میں میرپور پولیس نے گرفتار کیا گیا تھاجو ایک ماہ جیل میں بند رہنے کے بعد ہائیکورٹ سے ضمانت پر رہا ہوا ہے۔ ساجد نوابی نے دوران تفتیش ڈرگ مافیا کے پیچھے کام کرنے والے تمام کرداروں کے بارہ میں انکشاف کرتے ہوئے ثبوت بھی فراہم کیے ہیں۔ان میں چار پولیس افسران، دو صحافی، تین وکلاء،دو سیاستدان، اہم ادارہ کے لوگ اور احتساب بیورو کا ایک افسر شامل ہیں جنہوں نے اپنی خدمات کے عوض ساجد نوابی سے ڈرگ منی کے پیسوں میں سے 5 کروڑ روپے سے زائد رقوم وصول کی ہیں۔ ساجد نوابی نے دوران تفتیش آڈیو ریکارڈنگ اور دیگر ثبوت بھی پولیس کے حوالے کیے جن میں پولیس افسران مجرمان اشتہاری سے رابطہ کر کے راہنمائی اورمعاونت کر رہے ہیں اوردو صحافیوں اور وکلاء میں رقوم کی ادائیگی کروا رہے ہیں اور جیل میں بند ملزمان سے ویڈیو بیانات ریکارڈ کروا کے اپنے سینئر آفیسران کو بلیک میلنگ کرنے اورڈرگ مافیا کی معاونت کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ساجد نوابی نے مجسٹریٹ کے روبروبھی اپنے اقبالی بیان میں تمام تفصیلات بیان کر دی ہیں۔ ساجد نوابی نے دوران تفتیش اُس مافیا کو بھی بے نقاب کیا ہے جواپنے مذموم مقاصد کے لئے سرگرم تھا اور پولیس کو مرعوب اور بلیک میلنگ کرنے کے لئے سوشل میڈیا اور میڈیا پر چلائے جانے والی مہم میں شامل تھا۔اس مافیا میں شامل تمام عناصر کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جارہی ہے۔ پولیس ریاست کا ایک اہم ادارہ ہے جو لوگوں کی جان و مال اور عزت کا محافظ ہے۔ معاشرہ سے جرائم کا خاتمہ کرنا پولیس کی ذمہ داری ہے اور اگر اس میں عوام کا تعاون بھی حاصل ہو تواُس معاشرہ میں جرائم کا قلع قمع کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ تحریر 13-07-2020 (عرفان سلیم)
سینئرسپرنٹنڈنٹ پولیس
ضلع میرپور



