یہ صرف با صرف اس لیے کیوں کہ یہاں کے بزرگوں نے ہمیشہ علاقہ کے مفادات کو نہیں بلکہ اپنے دوستانہ تعلقات رشتہ داروں کو دیکھا جس کی وجہ سے دور جدید میں رڈ گائوں بنیادی سہولیات سے محروم ہے
اگر رڈ گاؤں کا کوئی بچہ تعلیم حاصل کر لے تو اسے سعودی عرب دبئی یا کسی بھی دوسرے ملک میں بیجا جاتا ہے کیونکہ کہ رڈ گائوں کی سفارش کرنے والا کوئی بھی نہیں
یہ لائین آف کنٹرول پر گاؤں ہے
ایک طرف بھارتی فوج دوسری طرف حلقہ راج محل گوئی آزاد کشمیر کی سیاست
سہولیات سے محروم ہونے کی وجہ سے اس گاؤں کے لوگوں کو کافی نقصان ہوا کیوں کہ بہت سے لوگوں نے فیصلہ کیا کہ یہاں بہت پریشانیاں ہے ایک تو آئی روز بھارتی گولہ باری دوسرے طرف سہولیات سے محروم ہے
اس لیے لوگوں کو نقل مکانی کرنی پڑی
اب ہو گا تو کیا ہو گا مان لیا ہماری سننے والا کوئی بھی نہیں نہ تو ہمارے مشکل کوئی حل کر سکتا ہے نہ ہی کوئی نوٹس لے سکتا پے کیوں کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس
آج کے دور میں میڈیا کا بہت بڑا بڑا شور شورابا ہے لیکن
بد قسمتی سے ہمارے گاؤں میں آج تک میڈیا بھی نہیں جانے کو تیار
یاد رکھنا اس گاؤں سے ملک محمد نواز صاحب کو ہی ووٹ ملا
انشاءاللہ امید ہے کہ آج کے دور میں اس گاؤں کے نوجوان نے اتفاق کیا اور امید کرتے ہے کہ اپنے گاؤں کے مفادات کے لیے ہر وہ نوجوان جو با شعور ہے وہ جاگے گا آواز بنے گا اور اپنے اپنے بزرگوں کو بھی بتانا ہو گا




