میرپور میں خانہ بدوش خواتین کے قتل کی مکمل داستان

..... اربابِ اختیار ملزمان کو سرعام پھانسی دی جائے.....

13 مئی 2020 کو پولیس کو ایک ننھی بچی کی نعش ملی جسے پولیس نے تحویل میں لیکر تدفین کروائی اور اپنی مدعیت میں نامعلوم قاتلوں کے خلاف مقدمہ درج کر کے قاتلوں کی تلاش شروع کی۔ بچی کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے سے بچی کے خاندان نے حلقہ کھڑی کے علاقہ جبر سے پولیس سے رابطہ کیا۔ خانہ بدوش قبیلہ کے خاندان نے پولیس کو بتایا کہ بچی کے ساتھ اسکی ماں نیلم پری اور پھوپھی کالو بھی لاپتہ ہیں۔ پولیس نے ایک خاتون کی نعش امبرکھاری میرپور سے برآمد کر لی جبکہ دوسری خاتون کی تلاش شروع کر دی گئی۔ پروفیشنلزم، تحقیقات اور تفتیش میں شہرت رکھنے والے ایس ایس پی میرپور راجہ عرفان سلیم نے ڈی ایس پی سٹی چوہدری عنصر اور ایس ایچ او تھانہ سٹی سردار سہیل یوسف کو بہترین پولیس ٹیم دیکر تحقیقات کی ذمہ داری دی۔ ایس ایچ او سٹی سہیل یوسف نے مشکوک افراد سے تفتیش کا آغاز کیا۔ روزانہ کی تفتیش سے ایس ایس پی کو آگاہ کرتے انکی رہنمائی لیتے اور اگلے مشتبہ شخص تک پہنچتے۔ کڑیاں ملاتے ملاتے تیسرے دن ہی ایک ملزم پر پولیس کا شک پختہ ہونے لگا مگر پولیس نے اسے ابتدائی تفتیش کے بعف چھوڑ دیا اور اس پر خفیہ نظر رکھ لی اور شواہد اکٹھے کرنے لگی۔ جلد ہی پولیس نے دوبارہ اس ملزم کو پکڑا اور اس نے پولیس کے سامنے سچ اگل دیا۔ ملزم کی نشاندہی پر دیگر 3 ملزمان کو بھی پولیس پکڑنے میں کامیاب ہوئی۔ ملزمان میں فیاض احمد ولد مظفرحسین راولپنڈی کا رہائشی اور نانگی اڈہ میرپور میں گاڑیوں کی ڈینٹنگ کا کام کرتا ہے۔ محمد جبار ولد محمد ممتاز اندرلہ کٹیہرہ کھوئیرٹہ ضلع کوٹلی کا رہائشی ہے اور نانگی اڈہ میں مکینک کا کام کرتا ہے جبکہ تیسرا ملزم محمد رضوان ولد محمد اشرف برنالہ ضلع بھمبر کا رہائشی ہے اور میرپور میم رکشہ چلاتا ہے۔

11 مئی کو ملزمان نے دونوں خواتین کو 4500 روپے میں بک کیا۔ ملزم رضوان اور فیاض رکشہ اور موٹرسائیکل پر چیچیاں گئے جہاں سے 2 خواتین رکشہ میں آئیں۔ جبار بن خرماں میں واقع زیر تعمیر مدرسہ میں انکا انتظار کرتا رہا۔ خواتین ناکہ بندی سے بچنے کے لئے معصوم بچی کو بھی ساتھ لے آئیں تاکہ ناکہ بندی میں بچی کی بیماری کا بہانہ کر سکیں۔

2 خواتین کو بن خرماں کے مقام پر ایک زیرتعمیر مدرسہ میں لایا گیا جہاں تینوں ملزمان نے 2 خواتین سے جنسی درندگی کا کھیل کھیلنا شروع کیا۔ نیلم پری نے مزاحمت کی جس سے فیاض کے منہ پر ناخن لگنے سے زخم آ گیا۔ فیاض نامی ملزم نے غصے میں نیلم کے سر پر اینٹ ماری جس سے وہ موقع پر ہی دم توڑ گئی جبکہ کالی نامی خاتون جو مدرسے کے دوسرے حصہ میں ملزم جبار کے ساتھ تھی کو قتل کا پتہ نہیں چلا۔ فیاض اور رضوان نے نیلم کو مدرسہ میں گڑھا کھود کر دفن کر دیا اور جبار کو سارا ماجرا بتایا۔ تینوں ملزمان نے منصوبہ بندی سے کالو اور معصوم بچی کو ٹھکانے لگانے کا پروگرام بنایا اور کالو اور بچی کو رضوان کے ساتھ رکشہ میں بھیج دیا اور بتایا کہ نیلم جبار کے ساتھ موٹرسائیکل پر آئے گی۔ رضوان کالو کو لیکر امرکھاری منگلا ڈیم بائی پاس روڈ پر لایا اور ویران جگہ رکشہ کھڑا کر کے ظاہر کرنے لگا کہ نیلم جبار کے ساتھ آ رہی ہے جبکہ حقیقت میں جبار اور فیاض موٹرسائیکل پر رکشہ سے کچھ فاصلے پر اندھیرا پھیلنے کا انتظار کر رہے تھے۔ جیسے ہی اندھیرا پھیلا ملزمان رکشہ کے پاس پہنچے اور کالو کا گلہ دبایا جبکہ رضوان اسکے منہ اور سر پر اینٹیں مارنے لگا جس سے کالو کی موت واقع ہو گئی۔ کالو کو قریبی نالے میں پھینکنے کے بعد ملزمان بچی کو لیکر روانہ ہو گئے۔ پولیس ذرائع کے مطابق ملزمان میں سے کوئی ایک بچی کو گود لینا چاہتا تھا تاہم پکڑے جانے کے ڈر سے مہتہ جاگیر کے مقام پر بچی کا گلہ دبایا اور زمین پر پٹخ کر قتل کر دیا۔ پولیس نے ملزمان کی نشاندہی پر نیلم پری نامی خاتون کی نعش مدرسہ سے برآمد کر لی ہے۔

اندوہناک تیہرے قتل کیس کے نامعلوم ملزمان کو محض 2 ہفتے میں پولیس نے ٹریس کر کے گرفتار کر کے ثابت کیا ہے کہ میرپور پولیس ہر طرح کے چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے جبکہ ایس ایچ او تھانہ سٹی انسپکٹر سہیل یوسف پر ایس ایس پی میرپور نے جس اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ضلع کے سب سے بڑے پولیس اسٹیشن کی ذمہ داری سونپی تھی وہ اس اعتماد پر پورا اترے ہیں۔

لرزہ خیز قتل کی روداد سننے کے بعد میرپور کی فضا سوگوار ہے...

.... شہریوں کا اربابِ اختیار سے مطالبہ ہے کہ تینوں ملزمان کو سرعام پھانسی لگائی جائے۔...