جنگلی جانور نہ صرف ماحولیات کو متوازن رکھتے ہیں بلکہ ان سے ماحول اور بھی زیادہ خوبصورت ہو جاتا ہے اسی وجہ سے جنگلی جانوروں کے شکار پر پابندی لگائی جاتی ہے تاکہ ان کی نسل کو ختم ہونے سے بچایا جاسکے۔ اس کے باوجود بھی تحصیل سہنسہ کے علاقہ چھوچھ کھتراس میں ان نایاب پرندوں کا بے رحمی سے غیر قانونی شکار کا سلسلہ جاری ہے ہر روز درجنوں نایاب پرندے ڈڈیال سے آئے ہوئے ظالم شکاریوں کا نشانہ بن رہے ہیں اہلِ علاقہ چھوچھ و کھتراس کو ان پرندوں کی نسل کشی ہر گز قابلِ قبول نہیں ہے ہم انتظامیہ سے اپیل کرتے ہیں کہ اس عمل کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جائیں اور ان نایاب پرندوں کی نسل کشی کو بند کروایا جائے۔
البم · فیس بک
آزاد کشمیر میں اگرچہ نایاب جانوروں کے شکار پر پابندی ہے اور ان کو شکاریوں سے بچانے کے لئے حکومتی ادارے وقتاً فوقتاً اقدامات بھی کرتے ہیں مگر اسکے برعکس یہاں نایاب پرندوں اور جانوروں کی تعداد بتدریج کم سے کم تر ہوتی جا رہی ہے نایاب پرندوں کا شکار کرنا ظلم ہے ان کی نسل بچانے کے لئے ان کی حفاظت ضروری ہے مگر کشمیرکے علاقوں میں جنگلی حیات پر عرصہ حیات تنگ ہی ہوتا چلا گیا ہے اور آج جتنا ان نایاب پرندوں اور جانوروں کو بچانے کی ضرورت ہے پہلے کبھی نہ تھی۔




