آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ کی بندش کو 72 روز مکمل ہو چکے ہیں جبکہ اس طویل تعطل کے باعث فری لانسرز، آن لائن کاروبار، طلبہ، ڈیجیٹل شعبے سے وابستہ افراد اور عام شہری شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ فری لانسرز کو لاکھوں روپے کے نقصان کا سامنا ہے جبکہ بیرونِ ملک مقیم کشمیریوں کے لیے اپنے اہلِ خانہ سے رابطہ بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔

حکومتی مؤقف اگر یہ ہے کہ باقی معاملات نئی منتخب اسمبلی کے قیام کے بعد طے کیے جائیں گے، تو اس عمل میں مزید وقت لگنے کا خدشہ موجود ہے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ انٹرنیٹ سے وابستہ لاکھوں لوگوں کو مزید کتنے دن انتظار کرنا ہوگا؟

حکومت سے اپیل ہے کہ کم از کم پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں انٹرنیٹ سروس بحال کی جائے، تاکہ فری لانسرز، طلبہ، کاروباری افراد اور اوورسیز کشمیری اپنے معمولات اور اپنے پیاروں سے رابطہ بحال کر سکیں۔

انٹرنیٹ آج سہولت نہیں ضرورت بن چکا ہے۔