جاوید راٹھور نے کہا کہ میرے پاس جو معلومات پہنچ رہی ہیں ان سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ کشمیر میں بہت بڑا سانحہ ہونے جا رہا ہے، شاید یہ کشمیر کی تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ ہو۔ جو اطلاعات اور صورتحال سامنے آ رہی ہے وہ انتہائی تشویشناک ہے اور اس حوالے سے سنگین خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ کشمیر حکومت، حکومت پاکستان اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت سے مخاطب ہونا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق جب وہ پاکستان میں موجود تھے تو انہوں نے سینیٹرز، اراکین اسمبلی، سیاسی رہنماؤں اور عوامی ایکشن کمیٹی کے نمائندوں سے متعدد ملاقاتیں کیں۔
جاوید راٹھور نے کہا کہ انہیں پہلے ہی محسوس ہو رہا تھا کہ حالات درست سمت میں نہیں جا رہے اسی لیے انہوں نے کوشش کی کہ معاملات مزید خراب ہونے سے پہلے انہیں مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔
انہوں نے بتایا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کو تجویز دی تھی کہ وہ اپنا دھرنا جاری رکھے لیکن ساتھ ہی بازار اور دکانیں بھی کھلی رہنے دیں تاکہ عوام کو مشکلات کا سامنا نہ ہو اور حکومت کے ساتھ مذاکرات کا راستہ بھی کھلا رہے جس کے نتیجے میں مسائل کا کوئی قابل قبول حل نکل سکتا تھا۔
ان کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی کی رائے یہ تھی کہ حکومت کو سرنڈر کرنا ہوگا کیونکہ ان کے بقول حکومت نے گزشتہ احتجاجی تحریک میں تیس سے زائد نوجوانوں کو شہید کیا وعدوں کی خلاف ورزی کی اور عوام کا اعتماد کھو دیا ہے۔ دوسری جانب، حکومت بھی اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے پر تیار نہیں تھی۔
جاوید راٹھور نے کہا کہ انہوں نے حکومت کو بھی مشورہ دیا تھا کہ کچھ بھی ہو جائے ریاست کو کمزور نہیں ہونا چاہیے۔ جن کے پاس طاقت ہے ان کے پاس اختیار بھی ہے، اس لیے انہیں طاقت کے بجائے دانشمندانہ فیصلے کرنے چاہئیں۔
انہوں نے حالیہ حکومتی دعوے کا بھی ذکر کیا، جس میں کہا گیا کہ عوامی ایکشن کمیٹی نے 12 پولیس اہلکاروں کو اغوا کر رکھا ہے اور انہیں بازیاب نہ کرایا گیا تو آپریشن کیا جائے گا۔
جاوید راٹھور نے اس دعوے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کی سوچ کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکن غیر مسلح ہیں اور وہ ایسی کارروائی نہیں کر سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں خدشہ ہے کہ ایسے بیانات کے ذریعے عوام کے خلاف کارروائی کا جواز پیدا کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دوسری جانب عوامی ایکشن کمیٹی سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے جا رہی ہے جبکہ دونوں فریق اپنی اپنی انا پر قائم ہیں جس کے باعث حالات مزید بگڑنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ جاوید راٹھور کا کہنا تھا کہ بھارت ہمیشہ یہ چاہتا تھا کہ کشمیری عوام اور پاکستان کے درمیان فاصلے پیدا ہوں اور اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو اس سے پاکستان کے مؤقف کو عالمی سطح پر نقصان پہنچ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کے مطابق دنیا کے مختلف ممالک میں پاکستانی سفارت خانوں کے باہر کشمیری احتجاج کر رہے ہیں اور اس سے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ جاوید راٹھور نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انٹرنیٹ سروس کی بندش آمدورفت پر پابندیاں اور دیگر اقدامات سے عام شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ راولاکوٹ سے ایک نوجوان کی ہلاکت اور گھروں کی چھتوں پر سنائپرز تعینات ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔
انہوں نے سیاسی قیادت سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں کو اپنے فیصلوں کے ریاست پر مرتب ہونے والے اثرات کا ادراک ہونا چاہیے اور طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات تحمل اور دانشمندی کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
آخر میں جاوید راٹھور نے کہا کہ کشمیری عوام کو طاقت کے ذریعے دبانا ممکن نہیں، اس لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر کشیدگی کم کرنے عوام کے مسائل کے حل اور مذاکرات کے ذریعے راستہ نکالنے کی کوشش کرے تاکہ کسی بڑے انسانی سانحے سے بچا جا سکے۔



