پاکستان کے زیرِ انتظام آزاد جموں و کشمیر میں 5 جون سے شروع ہونے والی انٹرنیٹ بندش نے شہریوں، طلبہ، آن لائن کاروبار سے وابستہ افراد اور بیرونِ ملک مقیم کشمیریوں کے لیے مشکلات پیدا کر دیں۔

معتبر میڈیا رپورٹس کے مطابق 5 جون کو مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی کی احتجاجی سرگرمیوں کے پس منظر میں آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں موبائل ڈیٹا اور براڈبینڈ سروسز معطل کی گئی تھیں۔ بعد ازاں مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ سروس مرحلہ وار بحال ہونا شروع ہوئی۔ 24 جولائی کو میرپور ڈویژن کے متعدد علاقوں میں 48 روز بعد سروس کی جزوی بحالی رپورٹ ہوئی، جبکہ 30 جولائی کو مظفرآباد ڈویژن کے بعض علاقوں میں 54 روز بعد انٹرنیٹ واپس آنے کی اطلاع سامنے آئی۔

تاہم پونچھ ڈویژن سمیت بعض علاقوں میں انٹرنیٹ کی صورتحال مکمل طور پر معمول پر نہ آنے کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ طویل بندش کے باعث طلبہ کی آن لائن کلاسز اور تعلیمی سرگرمیاں فری لانسنگ، آن لائن کاروبار، بینکنگ اور عوامی رابطے متاثر ہوئے۔ Al Jazeera نے بھی رپورٹ کیا کہ انٹرنیٹ بندش نے بالخصوص طلبہ اور کاروباری افراد کو نمایاں طور پر متاثر کیا۔

اس صورتحال کا ایک اہم پہلو بیرونِ ملک مقیم کشمیریوں کا اپنے خاندانوں سے رابطہ بھی ہے۔ انٹرنیٹ پر انحصار کرنے والے خاندانوں کے لیے طویل بندش نے روزمرہ رابطے اور معلومات کے تبادلے کو مشکل بنا دیا۔

انٹرنیٹ بندش کے قانونی پہلو پر بھی سوالات اٹھے۔ 3 جولائی کو آزاد کشمیر ہائی کورٹ نے طویل انٹرنیٹ معطلی کے خلاف دائر درخواست پر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) آزاد کشمیر حکومت آزاد کشمیر کونسل اور اسپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن (SCO) سے جواب طلب کیا تھا۔ درخواست میں بندش کو شہریوں کے بنیادی حقوق سے متصادم قرار دیتے ہوئے فوری بحالی کی استدعا کی گئی تھی۔

صدائے حق کشمیر نیوز کا مؤقف

انٹرنیٹ آج صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ تعلیم، روزگار، کاروبار، بینکنگ، معلومات اور خاندانوں کے باہمی رابطے کی بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ جہاں سکیورٹی صورتحال اجازت دے، وہاں انٹرنیٹ سروسز مکمل اور بلاامتیاز بحال کی جائیں اور عوام کو بندش کی وجوہات اور بحالی کے واضح شیڈول سے آگاہ کیا جائے۔