جبکہ راولاکوٹ میں اس وقت دھرنے میں فائرنگ اور شدید کشیدگی کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں
مظاہرین کی جانب سے الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ فورسز کی جانب سے ہر رات فائرنگ کی جاتی ہے
گزشتہ دو ماہ سے جاری دھرنا میں شریک شرکاء کی جانب سے سو سے زائد نوجوانوں اور درجنوں سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادتوں کے دعوے بھی کیے جا رہے ہیں،
حکومت کی پالیسیوں، طویل انٹرنیٹ بندش اور بڑھتی کشیدگی نے فورسز اور عوام کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے
سوال یہ ہے کہ اگر حالات مزید بِگڑتے ہیں تو قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟



