کھوئی رٹہ: معروف صحافی راجہ عابد حسین کے صاحبزادے، ہنگری میں مقیم نوجوان صحافی اور النور نیوز کے سی ای او ارسلان عابد کا نام سرکاری نوٹیفکیشن کے ذریعے شیڈول فور میں شامل کیے جانے کے بعد صحافتی حلقوں میں ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے۔
ارسلان عابد کا معاملہ محض النور نیوز پر نشر ہونے والی خبروں تک محدود کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔ پاکستان اور خطے کے مختلف سیاسی، سماجی اور حساس معاملات پر الجزیرہ اور بی بی سی اردو جیسے معروف بین الاقوامی میڈیا ادارے بھی رپورٹنگ کرتے اور سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔ النور نیوز نے بھی اپنے پلیٹ فارم سے حالات اور عوامی مسائل کا وہ رخ سامنے رکھنے کی کوشش کی جسے اس کی ادارتی ٹیم اہم سمجھتی رہی۔
ایسے میں ارسلان عابد کا نام شیڈول فور میں شامل ہونے کے بعد ایک بڑا سوال سامنے آگیا ہے: کیا النور نیوز کی صحافتی اور ادارتی سرگرمیوں کا اس فیصلے سے کوئی تعلق ہے، یا حکام کے پاس اس اقدام کی کوئی دوسری قانونی اور انتظامی بنیاد موجود ہے؟
اس سوال کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ جن معاملات اور زمینی حقائق کو النور نیوز نے اٹھایا، پاکستان اور خطے کے انہی یا ملتے جلتے معاملات پر بڑے ملکی و بین الاقوامی ذرائع ابلاغ بھی رپورٹنگ کرتے رہے ہیں۔
الجزیرہ ہو، بی بی سی اردو ہو یا النور نیوز—اگر حالات کا چہرہ ایک ہی ہے تو سوال آئینے پر کیوں؟
النور نیوز کے سی ای او کے خلاف اس غیر معمولی سرکاری اقدام کے بعد اب نظریں متعلقہ حکام پر ہیں کہ وہ واضح کریں کہ ارسلان عابد کو شیڈول فور میں شامل کرنے کی ٹھوس بنیاد اور وجوہات کیا ہیں۔
ارسلان عابد کا تعلق کھوئی رٹہ کے معروف صحافتی خاندان سے ہے۔ ان کے والد راجہ عابد حسین شعبۂ صحافت سے وابستہ معروف نام ہیں جو کہ اس سے قبل پاکستانی انٹرنیشنل میڈیا کے ساتھ بھی رپورٹنگ کر چکے ہیں، جبکہ ارسلان عابد اس وقت ہنگری میں مقیم اور النور نیوز کے سی ای او کی حیثیت سے میڈیا کے شعبے سے وابستہ ہیں۔
اب اصل سوال صرف ارسلان عابد کا نہیں—سوال یہ بھی ہے کہ خبر دکھانا، سوال اٹھانا اور عوام کے سامنے حالات کا آئینہ رکھنا کہاں تک آزاد صحافت ہے، اور کہاں سے ریاستی کارروائی کی بنیاد بن جاتا ہے؟
اس معاملے میں متعلقہ حکام اور ارسلان عابد، دونوں کا تفصیلی مؤقف سامنے آنے کے بعد ہی مکمل تصویر واضح ہوسکے گی۔



