پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں کالعدم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے حامی مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان گزشتہ روز ہونے والی جھڑپوں کے بعد آج بھی شہر کی صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔

شہر بھر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال جاری ہے۔ بازار، دکانیں، بینک اور پٹرول پمپ بند ہیں جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ بھی معطل ہے۔ سڑکیں سنسان ہیں اور شہر کے مختلف مقامات پر ایف سی اور مقامی پولیس کے اہلکار تعینات ہیں۔

مقامی اطلاعات کے مطابق مظاہرین نے شہر کی متعدد شاہراہوں کو رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کر رکھا ہے، جبکہ وادیٔ نیلم جانے والی مرکزی شاہراہ بھی پٹھیکہ کے مقام پر ہر قسم کی آمدورفت کے لیے بند ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز نمازِ جمعہ کے بعد مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے تھے۔ مظاہرین نے مرکزی اور اندرونی شاہراہیں بند کر دیں، جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ اور ہوائی فائرنگ کی۔

اس دوران ایک مقامی شہری، معید راٹھور، جان کی بازی ہار گئے۔ وہ آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی میں ملازم تھے۔