پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کے تناظر میں راولاکوٹ اور میرپور میں ہونے والی پرتشدد جھڑپوں میں رینجرز کے ایک اہلکار سمیت دو افراد کی شہادت کی تصدیق ہوئی ہے۔ دوسری جانب عوامی ایکشن کمیٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے ایک درجن سے زیادہ کارکن قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی فائرنگ سے شہید ہوئے ہیں۔

بی بی سی اردو کے مطابق

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کے تناظر میں راولاکوٹ اور میرپور میں ہونے والی پرتشدد جھڑپوں میں رینجرز کے ایک اہلکار سمیت دو افراد کی شہادت کی تصدیق ہوئی ہے۔

عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ پیر اور منگل کو اس کے ایک درجن سے زیادہ کارکن قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی فائرنگ سے شہید ہوئے ہیں۔

پیر کو راولاکوٹ میں پرتشدد جھڑپوں میں مبینہ ہلاکتوں کے خلاف منگل کی صبح میرپور میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مظاہرین اور پولیس کے درمیان پرتشدد جھڑپ ہوئی جس میں کم از کم ایک شخص شہید جبکہ دو زخمی ہوئے ہیں۔

میرپور کے ایک سینیئر پولیس افسر نے بی بی سی اُردو کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی کہ منگل کے صبح عوامی ایکشن کمیٹی کے چند کارکنان راولاکوٹ میں پیر کی شام پیش آئے پرتشدد واقعات کے تناظر میں اظہار یکجہتی کے لیے میرپور کے تجارتی مرکز میں جمع ہوئے اور انھوں نے زبردستی دکانیں بند کروانے کی کوشش کی