آج کا دن آزاد جموں و کشمیر کی تاریخ کے انتہائی افسوسناک دنوں میں شمار کیا جائے گا۔ اطلاعات کے مطابق 20 قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں اور 100 سے زائد افراد زخمی ہیں۔ ہر انسانی جان کا ضیاع ایک ناقابلِ تلافی سانحہ ہے۔ میں شہداء کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور زخمیوں کی جلد و مکمل صحت یابی کے لیے دعا گو ہوں۔

میں ذاتی طور پر خود کو بے بس محسوس کر رہی ہوں، کیونکہ گزشتہ کئی ہفتوں سے ہم نے ہر ممکن کوشش کی کہ حالات اس نہج تک نہ پہنچیں۔ ہم نے ہر دروازہ کھٹکھٹایا، ہر متعلقہ فورم پر آواز اٹھائی، ہر اس شخص تک اپنی بات پہنچانے کی کوشش کی جو اس بحران کو خونریزی میں بدلنے سے روک سکتا تھا۔ ہماری مسلسل اپیل یہی تھی کہ اختلافات کا حل طاقت نہیں بلکہ مکالمہ، تحمل اور سیاسی بصیرت سے تلاش کیا جائے۔

آزاد جموں و کشمیر حکومت کی غفلت، ناقص حکمتِ عملی اور سیاسی مسائل کو سیاسی طریقے سے حل کرنے میں ناکامی نے حالات کو اس نہج پر پہنچا دیا جہاں عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار آمنے سامنے آ گئے۔ ایسی صورتحال کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے انتہائی افسوسناک اور ناقابلِ قبول ہے۔

سیاسی قیادت کی بنیادی ذمہ داری یہ تھی کہ بروقت مکالمے، دانشمندانہ فیصلوں اور عوامی اعتماد کی بحالی کے ذریعے اس بحران کا پرامن حل تلاش کرتی۔ بدقسمتی سے ایسا نہ ہو سکا، جس کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا اور پورا معاشرہ شدید صدمے سے دوچار ہے۔

اب بھی وقت ہے کہ تمام متعلقہ فریقین اس معاملے کو محض امن و امان کا مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سنگین سیاسی بحران کے طور پر دیکھیں اور فوری، بامعنی اور غیرمشروط مذاکرات کا آغاز کریں۔

موجودہ صورتحال پاکستان اور مسئلۂ جموں و کشمیر، دونوں کے لیے نہایت حساس ہے۔ ایسے حالات دشمن عناصر کو فائدہ پہنچانے اور ہمارے قومی و ریاستی مفادات کو نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس لیے دانشمندی، تحمل اور قومی ذمہ داری کا تقاضا ہے کہ مزید تصادم سے گریز کرتے ہوئے آئین، قانون اور سیاسی مکالمے کی راہ اختیار کی جائے۔

آج جب اتنی قیمتی جانیں ہم سے بچھڑ چکی ہیں تو یہ وقت ایک دوسرے پر الزام تراشی کا نہیں بلکہ اجتماعی احتساب، تدبر اور ذمہ داری کا ہے۔ اپنے ہی لوگوں کے خلاف طاقت کا استعمال کسی بھی معاشرے کے لیے ایک انتہائی سنگین معاملہ ہے، جس کا غیرجانبدارانہ، شفاف اور آزادانہ تحقیق کے ذریعے جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ حقائق سامنے آئیں، ذمہ داروں کا تعین ہو اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف مل سکے۔

میں تمام فریقین سے اپیل کرتی ہوں کہ مزید خونریزی سے گریز کریں، تحمل کا مظاہرہ کریں اور فوری طور پر بامعنی مذاکرات کا آغاز کیا جائے۔ ریاست کی طاقت اپنے شہریوں کے تحفظ، انصاف اور قانون کی بالادستی میں ہوتی ہے، نہ کہ تصادم کے تسلسل میں۔

ہم ان جانوں کو کبھی فراموش نہیں کریں گے جو اس بحران میں ہم سے جدا ہوئیں۔ ان کی یاد ہمیں اس عزم کی طرف لے جانی چاہیے کہ آئندہ اختلافات کا راستہ صرف آئین، قانون، مکالمے اور جمہوری عمل کے ذریعے طے کیا جائے، تاکہ کوئی اور خاندان اس دکھ سے نہ گزرے۔