محمد فضیل صحافی نے دعویٰ کیا ہے کہ اپوزیشن کے کچھ ارکان اور کچھ اہم شخصیات کی حسین کورٹ میں بیٹھک اور عوامی ایکشن کمیٹی کے حوالے سے ایکشن کمیٹی کے ساتھ کچھ رابطے والے لوگ مذاکرات کر رہے ہیں، مذاکرات میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ شوکت نواز میر کی رہائی، ایف آئی آرز کو ختم کرنا، ایکشن کمیٹی کے 4 رہنماؤں پر سروں کی قیمت کو واپس لینا جیسے مطالبات پر ڈیڈ لاک تھا بہرحال دوبارہ اس پر مذاکرات کیے جا رہے ہیں اگر مذاکرات کامیاب ہوئے تو اس معاہدے کا نام حسین کورٹ رکھا جائے گا، صحافی نے دعویٰ کیا کہ باوثوق ذرائع سے وہ یہ خبر دے رہے ہیں تاہم اس حوالے سے حکومت آزادکشمیر کی جانب سے اس واقعے کی تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے #alnoornews
تصویر · فیس بک
محمد فضیل صحافی نے دعویٰ کیا ہے کہ اپوزیشن کے کچھ ارکان اور کچھ اہم شخصیات کی حسین کورٹ میں بیٹھک اور عوامی ایکشن کمیٹی کے حوالے سے ایکشن کمیٹی کے ساتھ کچھ رابطے والے لوگ مذاکرات کر رہے ہیں، مذاکرات میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ شوکت نواز میر کی رہائی، ایف آئی آرز کو ختم کرنا، ایکشن کمیٹی کے 4 رہنماؤں پر سروں کی قیمت کو واپس لینا جیسے مطالبات پر ڈیڈ لاک تھا بہرحال دوبارہ اس پر مذاکرات کیے جا رہے ہیں اگر مذاکرات کامیاب ہوئے تو اس معاہدے کا نام حسین کورٹ رکھا جائے گا، صحافی نے دعویٰ کیا کہ باوثوق ذرائع سے وہ یہ خبر دے رہے ہیں تاہم اس حوالے سے حکومت آزادکشمیر کی جانب سے اس واقعے کی تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے




