حالیہ ایکشن کمیٹی کے احتجاج نے آزادکشمیر کی سیاست میں نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ عوامی حلقوں میں روایتی سیاسی جماعتوں سے بڑھتی ہوئی بے اعتمادی کے باعث آزاد امیدواروں کی مقبولیت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

حلقہ کھوئی رٹہ میں شاداب سکندر خان اس وقت دیگر امیدواروں سے آگے نظر آ رہے ہیں، جبکہ سیاسی جماعتوں کے امیدوار عوامی پذیرائی حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ مقامی سطح پر بڑی تعداد میں لوگ شاداب سکندر خان کی حمایت کا اعلان کر رہے ہیں اور ان کی انتخابی مہم روز بروز زور پکڑتی جا رہی ہے۔

شاداب سکندر خان کی جانب سے مسلم لیگ ن چھوڑنے کے بعد سیاسی صورتحال مزید دلچسپ ہو گئی ہے۔ ان کے حامیوں نے سائیکل کے انتخابی نشان پر انہیں کامیاب کرانے کے لیے بھرپور مہم چلانے اور متحد ہو کر ووٹ دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

دوسری جانب آزادکشمیر کے مختلف علاقوں سے بھی سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کو عوامی مزاحمت اور سخت سوالات کا سامنا کرنے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ موجودہ حالات میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ آئندہ انتخابات میں آزاد امیدوار روایتی سیاسی جماعتوں کے لیے بڑا چیلنج ثابت ہو سکتے ہیں۔