بریکنگ
آزاد جموں و کشمیر ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ نبیلہ ارشاد کا کہنا ہے کہ 36 دن گذرنے کے باوجود اب بھی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال بدستور برقرار ہے۔ 5 جون کو لاک ڈاؤن، کرفیو اور شہادتیں ہوئیں، ان کے 38 بنیادی مطالبات تھے جن میں بیشتر اشرافیہ کی مراعات، سڑکوں کی تعمیر، ہسپتالوں کی بہتری، اور کچھ ائیرپورٹ اور ٹنلز کے حوالے سے تھے۔ یہ وہ مطالبات تھے جو کسی بھی حکومت کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے پورے کرنے چاہئیں۔ سینئر صحافی اعزاز سید کے اس سوال پر کہ حکومت کا کہنا ہے کہ 38 مطالبات میں سے 37 مطالبات منظور کیے جا چکے تھے، صرف ایک باقی رہ گیا تھا، نبیلہ ارشاد نے جواب دیا کہ حکومت کی جانب سے یہ دعوی کرنا ان کی مجبوری ہے۔ جب ہم نے عوامی ایکشن کمیٹی کے ممبران سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ آٹے کی قیمت کم کی گئی، بجلی سستی کی گئی، شہداء کے لواحقین کو کچھ رقم ادا کی گئی، اور 200 میں سے 175 ایف آئی آر ختم کی گئیں۔ یہ چند مطالبات ہی منظور کیے گئے ہیں۔ حکومت کا بیانیہ کمزور ہے اور اگر واقعی سب کچھ کر دیا گیا ہے تو پھر ان کے رہنماؤں کو سامنے آ کر بتانا چاہیے۔ ہم نے تمام سیاسی جماعتوں کو خطوط لکھے ہیں کہ یہ لوگ باہر سے نہیں آئے، اپنے ہی گھر کے افراد ہیں جنہیں اپنے بنیادی حقوق کی طلب ہے۔ انہیں ان کے حقوق دیے جائیں تو گھر چلتا رہے گا۔ وفاقی حکومت کی مداخلت سے حکومت آزاد کشمیر بنتی اور گِرتی ہے۔ لوگوں کو ان کے حقوق ملنے چاہئیں۔ اقوام متحدہ کا بھی یہ فرض بنتا ہے کہ کشمیر میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرائے جائیں۔ آزاد کشمیر مذاکرات میں شامل لوگوں کو روکا گیا ہے اور اب بھی کوشش کی جا رہی ہے کہ معاملہ حل ہو جائے۔ تین دن قبل عوامی ایکشن کمیٹی کے ممبران سے ملاقات ہوئی تھی اور انہیں کہا گیا ہے کہ انتہائی اقدام سے گریز کریں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ 5 جون جیسی صورتحال کو بحال کیا جائے۔ مقبوضہ کشمیر کے حالات بھی یہی نظر آ رہے ہیں۔ آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتوں کی شدید ناکامی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کا بھی یہاں آؤٹ سورس ہے۔ مختلف جماعتوں سے ناراض افراد پاکستان استحکام پارٹی میں شامل ہوئے ہیں۔ تنویر الیاس کو جب پیپلز پارٹی کا ٹکٹ نہیں ملا تو انہوں نے استحکام پارٹی جوائن کر لی۔ آزاد کشمیر میں یہی مسلہ نظر آ رہا ہے کہ لوگ اوور نائٹ اپنی وفاداریاں تبدیل کرتے ہیں۔ پیرا شوٹرز کی حکومت بنائی جاتی ہے جنہیں عوامی مسائل کا کوئی علم نہیں ہوتا۔ ہمارے بھی دو تین افراد ہماری پارٹی چھوڑ کر استحکام پارٹی میں چلے گئے ہیں۔ لگتا ہے کہ کسی بڑے کی اشارہ پر یہ سب ہو رہا ہے۔ گلگت بلتستان میں بھی یہی ہوا۔ ماضی کے 80 سالوں میں نہ پاکستان میں اور نہ ہی کشمیر میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ہو سکے ہیں۔سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کے فیصلے کے خلاف حکومت کی نظرثانیپاکستان کے زیرِ انتظام آزاد کشمیر کے شہری اور طلباء گزشتہ ڈھائی ماہ سے انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم، تعلیم، روزگار اور روزمرہ رابطوں پر کیا اثرات پڑ رہے ہیں؟شاداب سکندر خان نے بیرسٹر افتخار گیلانی کو ٹیکنوکریٹ کی مخصوص نشست کا ٹکٹ ملنے پر مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔آزاد جموں و کشمیر ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ نبیلہ ارشاد کا کہنا ہے کہ 36 دن گذرنے کے باوجود اب بھی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال بدستور برقرار ہے۔ 5 جون کو لاک ڈاؤن، کرفیو اور شہادتیں ہوئیں، ان کے 38 بنیادی مطالبات تھے جن میں بیشتر اشرافیہ کی مراعات، سڑکوں کی تعمیر، ہسپتالوں کی بہتری، اور کچھ ائیرپورٹ اور ٹنلز کے حوالے سے تھے۔ یہ وہ مطالبات تھے جو کسی بھی حکومت کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے پورے کرنے چاہئیں۔ سینئر صحافی اعزاز سید کے اس سوال پر کہ حکومت کا کہنا ہے کہ 38 مطالبات میں سے 37 مطالبات منظور کیے جا چکے تھے، صرف ایک باقی رہ گیا تھا، نبیلہ ارشاد نے جواب دیا کہ حکومت کی جانب سے یہ دعوی کرنا ان کی مجبوری ہے۔ جب ہم نے عوامی ایکشن کمیٹی کے ممبران سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ آٹے کی قیمت کم کی گئی، بجلی سستی کی گئی، شہداء کے لواحقین کو کچھ رقم ادا کی گئی، اور 200 میں سے 175 ایف آئی آر ختم کی گئیں۔ یہ چند مطالبات ہی منظور کیے گئے ہیں۔ حکومت کا بیانیہ کمزور ہے اور اگر واقعی سب کچھ کر دیا گیا ہے تو پھر ان کے رہنماؤں کو سامنے آ کر بتانا چاہیے۔ ہم نے تمام سیاسی جماعتوں کو خطوط لکھے ہیں کہ یہ لوگ باہر سے نہیں آئے، اپنے ہی گھر کے افراد ہیں جنہیں اپنے بنیادی حقوق کی طلب ہے۔ انہیں ان کے حقوق دیے جائیں تو گھر چلتا رہے گا۔ وفاقی حکومت کی مداخلت سے حکومت آزاد کشمیر بنتی اور گِرتی ہے۔ لوگوں کو ان کے حقوق ملنے چاہئیں۔ اقوام متحدہ کا بھی یہ فرض بنتا ہے کہ کشمیر میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرائے جائیں۔ آزاد کشمیر مذاکرات میں شامل لوگوں کو روکا گیا ہے اور اب بھی کوشش کی جا رہی ہے کہ معاملہ حل ہو جائے۔ تین دن قبل عوامی ایکشن کمیٹی کے ممبران سے ملاقات ہوئی تھی اور انہیں کہا گیا ہے کہ انتہائی اقدام سے گریز کریں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ 5 جون جیسی صورتحال کو بحال کیا جائے۔ مقبوضہ کشمیر کے حالات بھی یہی نظر آ رہے ہیں۔ آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتوں کی شدید ناکامی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کا بھی یہاں آؤٹ سورس ہے۔ مختلف جماعتوں سے ناراض افراد پاکستان استحکام پارٹی میں شامل ہوئے ہیں۔ تنویر الیاس کو جب پیپلز پارٹی کا ٹکٹ نہیں ملا تو انہوں نے استحکام پارٹی جوائن کر لی۔ آزاد کشمیر میں یہی مسلہ نظر آ رہا ہے کہ لوگ اوور نائٹ اپنی وفاداریاں تبدیل کرتے ہیں۔ پیرا شوٹرز کی حکومت بنائی جاتی ہے جنہیں عوامی مسائل کا کوئی علم نہیں ہوتا۔ ہمارے بھی دو تین افراد ہماری پارٹی چھوڑ کر استحکام پارٹی میں چلے گئے ہیں۔ لگتا ہے کہ کسی بڑے کی اشارہ پر یہ سب ہو رہا ہے۔ گلگت بلتستان میں بھی یہی ہوا۔ ماضی کے 80 سالوں میں نہ پاکستان میں اور نہ ہی کشمیر میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ہو سکے ہیں۔سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کے فیصلے کے خلاف حکومت کی نظرثانیپاکستان کے زیرِ انتظام آزاد کشمیر کے شہری اور طلباء گزشتہ ڈھائی ماہ سے انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم، تعلیم، روزگار اور روزمرہ رابطوں پر کیا اثرات پڑ رہے ہیں؟شاداب سکندر خان نے بیرسٹر افتخار گیلانی کو ٹیکنوکریٹ کی مخصوص نشست کا ٹکٹ ملنے پر مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔

آزاد جموں و کشمیر ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ نبیلہ ارشاد کا کہنا ہے کہ 36 دن گذرنے کے باوجود اب بھی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال بدستور برقرار ہے۔ 5 جون کو لاک ڈاؤن، کرفیو اور شہادتیں ہوئیں، ان کے 38 بنیادی مطالبات تھے جن میں بیشتر اشرافیہ کی مراعات، سڑکوں کی تعمیر، ہسپتالوں کی بہتری، اور کچھ ائیرپورٹ اور ٹنلز کے حوالے سے تھے۔ یہ وہ مطالبات تھے جو کسی بھی حکومت کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے پورے کرنے چاہئیں۔ سینئر صحافی اعزاز سید کے اس سوال پر کہ حکومت کا کہنا ہے کہ 38 مطالبات میں سے 37 مطالبات منظور کیے جا چکے تھے، صرف ایک باقی رہ گیا تھا، نبیلہ ارشاد نے جواب دیا کہ حکومت کی جانب سے یہ دعوی کرنا ان کی مجبوری ہے۔ جب ہم نے عوامی ایکشن کمیٹی کے ممبران سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ آٹے کی قیمت کم کی گئی، بجلی سستی کی گئی، شہداء کے لواحقین کو کچھ رقم ادا کی گئی، اور 200 میں سے 175 ایف آئی آر ختم کی گئیں۔ یہ چند مطالبات ہی منظور کیے گئے ہیں۔ حکومت کا بیانیہ کمزور ہے اور اگر واقعی سب کچھ کر دیا گیا ہے تو پھر ان کے رہنماؤں کو سامنے آ کر بتانا چاہیے۔ ہم نے تمام سیاسی جماعتوں کو خطوط لکھے ہیں کہ یہ لوگ باہر سے نہیں آئے، اپنے ہی گھر کے افراد ہیں جنہیں اپنے بنیادی حقوق کی طلب ہے۔ انہیں ان کے حقوق دیے جائیں تو گھر چلتا رہے گا۔ وفاقی حکومت کی مداخلت سے حکومت آزاد کشمیر بنتی اور گِرتی ہے۔ لوگوں کو ان کے حقوق ملنے چاہئیں۔ اقوام متحدہ کا بھی یہ فرض بنتا ہے کہ کشمیر میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرائے جائیں۔ آزاد کشمیر مذاکرات میں شامل لوگوں کو روکا گیا ہے اور اب بھی کوشش کی جا رہی ہے کہ معاملہ حل ہو جائے۔ تین دن قبل عوامی ایکشن کمیٹی کے ممبران سے ملاقات ہوئی تھی اور انہیں کہا گیا ہے کہ انتہائی اقدام سے گریز کریں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ 5 جون جیسی صورتحال کو بحال کیا جائے۔ مقبوضہ کشمیر کے حالات بھی یہی نظر آ رہے ہیں۔ آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتوں کی شدید ناکامی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کا بھی یہاں آؤٹ سورس ہے۔ مختلف جماعتوں سے ناراض افراد پاکستان استحکام پارٹی میں شامل ہوئے ہیں۔ تنویر الیاس کو جب پیپلز پارٹی کا ٹکٹ نہیں ملا تو انہوں نے استحکام پارٹی جوائن کر لی۔ آزاد کشمیر میں یہی مسلہ نظر آ رہا ہے کہ لوگ اوور نائٹ اپنی وفاداریاں تبدیل کرتے ہیں۔ پیرا شوٹرز کی حکومت بنائی جاتی ہے جنہیں عوامی مسائل کا کوئی علم نہیں ہوتا۔ ہمارے بھی دو تین افراد ہماری پارٹی چھوڑ کر استحکام پارٹی میں چلے گئے ہیں۔ لگتا ہے کہ کسی بڑے کی اشارہ پر یہ سب ہو رہا ہے۔ گلگت بلتستان میں بھی یہی ہوا۔ ماضی کے 80 سالوں میں نہ پاکستان میں اور نہ ہی کشمیر میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ہو سکے ہیں۔

آزاد جموں و کشمیر ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ نبیلہ ارشاد کا کہنا ہے کہ 36 دن گذرنے کے باوجود اب بھی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال بدستور برقرار ہے۔ 5 جون کو لاک ڈاؤن، کرفیو اور شہادتیں ہوئیں، ان کے 38 بنیادی مطالبات تھے جن میں بیشتر اشرافیہ کی مراعات، سڑکوں کی تعمیر، ہسپتالوں کی بہتری، اور کچھ ائیرپورٹ اور ٹنلز کے حوالے سے تھے۔ یہ وہ مطالبات تھے جو کسی بھی حکومت کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے پورے کرنے چاہئیں۔ سینئر صحافی اعزاز سید کے اس سوال پر کہ حکومت کا کہنا ہے کہ 38 مطالبات میں سے 37 مطالبات منظور کیے جا چکے تھے، صرف ایک باقی رہ گیا تھا، نبیلہ ارشاد نے جواب دیا کہ حکومت کی جانب سے یہ دعوی کرنا ان کی مجبوری ہے۔ جب ہم نے عوامی ایکشن کمیٹی کے ممبران سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ آٹے کی قیمت کم کی گئی، بجلی سستی کی گئی، شہداء کے لواحقین کو کچھ رقم ادا کی گئی، اور 200 میں سے 175 ایف آئی آر ختم کی گئیں۔ یہ چند مطالبات ہی منظور کیے گئے ہیں۔ حکومت کا بیانیہ کمزور ہے اور اگر واقعی سب کچھ کر دیا گیا ہے تو پھر ان کے رہنماؤں کو سامنے آ کر بتانا چاہیے۔ ہم نے تمام سیاسی جماعتوں کو خطوط لکھے ہیں کہ یہ لوگ باہر سے نہیں آئے، اپنے ہی گھر کے افراد ہیں جنہیں اپنے بنیادی حقوق کی طلب ہے۔ انہیں ان کے حقوق دیے جائیں تو گھر چلتا رہے گا۔ وفاقی حکومت کی مداخلت سے حکومت آزاد کشمیر بنتی اور گِرتی ہے۔ لوگوں کو ان کے حقوق ملنے چاہئیں۔ اقوام متحدہ کا بھی یہ فرض بنتا ہے کہ کشمیر میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرائے جائیں۔ آزاد کشمیر مذاکرات میں شامل لوگوں کو روکا گیا ہے اور اب بھی کوشش کی جا رہی ہے کہ معاملہ حل ہو جائے۔ تین دن قبل عوامی ایکشن کمیٹی کے ممبران سے ملاقات ہوئی تھی اور انہیں کہا گیا ہے کہ انتہائی اقدام سے گریز کریں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ 5 جون جیسی صورتحال کو بحال کیا جائے۔ مقبوضہ کشمیر کے حالات بھی یہی نظر آ رہے ہیں۔ آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتوں کی شدید ناکامی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کا بھی یہاں آؤٹ سورس ہے۔ مختلف جماعتوں سے ناراض افراد پاکستان استحکام پارٹی میں شامل ہوئے ہیں۔ تنویر الیاس کو جب پیپلز پارٹی کا ٹکٹ نہیں ملا تو انہوں نے استحکام پارٹی جوائن کر لی۔ آزاد کشمیر میں یہی مسلہ نظر آ رہا ہے کہ لوگ اوور نائٹ اپنی وفاداریاں تبدیل کرتے ہیں۔ پیرا شوٹرز کی حکومت بنائی جاتی ہے جنہیں عوامی مسائل کا کوئی علم نہیں ہوتا۔ ہمارے بھی دو تین افراد ہماری پارٹی چھوڑ کر استحکام پارٹی میں چلے گئے ہیں۔ لگتا ہے کہ کسی بڑے کی اشارہ پر یہ سب ہو رہا ہے۔ گلگت بلتستان میں بھی یہی ہوا۔ ماضی کے 80 سالوں میں نہ پاکستان میں اور نہ ہی کشمیر میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ہو سکے ہیں۔