یہ الفاظ آزاد کشمیر کے رہائشی نوید (فرضی نام) کے ہیں۔ نوید کا تعلق پونچھ سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کے پاس واقع گاؤں عباس پور سے ہے اور وہ اپنے خاندان کے لیے راولپنڈی سے کھانے پینے کی اشیا جیسے آٹا، چاول، چینی اور دالیں لے کر اپنے گاؤں جا رہے تھے۔
آزاد کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی تنظیم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے مطالبات کو پورا کروانے کے لیے ہڑتال کر رکھی ہے جسے دو ہفتوں سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے۔ ہڑتال کی وجہ سے زیادہ خطے کے تر حصوں میں کاروباری سرگرمیاں بند ہیں۔
اب ایسی اطلاعات بھی آ رہی ہیں کہ باہر سے خوراک اور پیٹرول لانے والی گاڑیوں کو ریاستی حدود میں داخل نہیں ہونے دیا جا رہا۔ اس کی وجہ سے مقامی لوگوں کو روزمرہ ضرورت کی اشیا کی قلت کا سامنا ہے۔ صرف یہی نہیں، بلکہ اگر لوگ اپنی ذاتی گاڑیوں میں محدود سامان لے جانے کی کوشش کرتے ہیں تو انھیں بھی روکا جا رہا ہے۔




