ڈوگرا راج کے دور میں تعمیر ہونے والے اس پرسکون اور دلکش بنگلے کی سب سے بڑی تاریخی اہمیت یہ ہے کہ بانیِ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح اور مادرِ ملت فاطمہ جناح نے جولائی 1944 میں سری نگر سے راولپنڈی واپسی کے دوران یہاں قیام فرمایا تھا اور ان کے زیرِ استعمال رہنے والی تاریخی کرسی آج بھی اس لاج میں محفوظ ہے۔ سنہ 2005 کے زلزلے میں شدید متاثر ہونے کے بعد محکمہ سیاحت آزاد کشمیر نے اس تاریخی ورثے کو اس کی اصل خوبصورت شکل میں بحال کر دیا ہے۔

کوہالہ پل (آزاد کشمیر کا داخلی راستہ) سے محض 3 کلومیٹر کے فاصلے پر مری-مظفرآباد روڈ پر واقع ہونے کی وجہ سے یہ لاج سیاحوں کے لیے ایک بہترین اور پرامن اسٹاپ اوور مانا جاتا ہے جہاں وہ دریا کے خوبصورت نظاروں اور ملکی تاریخ کی یادوں سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔