مظاہرین حکومت کے حالیہ اقدامات کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں جبکہ متعدد شہروں میں کاروباری سرگرمیاں اور ٹریفک بھی متاثر ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
احتجاجی تحریک کے تناظر میں حکومت کشمیر نے عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس کے بعض مرکزی رہنماؤں کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ بعد ازاں محکمہ داخلہ کی جانب سے چار سرگرم رہنماؤں کی گرفتاری میں مدد فراہم کرنے والوں کے لیے فی کس ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان بھی کیا گیا۔
سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق انعامی فہرست میں شوکت نواز میر، عمر نذیر کشمیری، خواجہ مہران ارشد اور سردار امان خان شامل ہیں۔




