بریکنگ
جب جب بھی ہوا کی بیٹی پر ظلم ہوا، تاریخ نے سوال اٹھایا۔آج وہی سوال ننھی تسمیہ سہیل کے خون سے لکھی ہوئی پکار بن گیا ہے۔تسمیہ صرف ایک بچی نہیں تھی، وہ معصومیت، اعتماد اور امید کی علامت تھی۔لیکن ظلم کی سیاہ رات نے اس کی زندگی چھین کر پوری انسانیت کو جھنجھوڑ دیا۔یہ صرف تسمیہ کا قتل نہیں، یہ ہماری غیرت، انصاف اور سماج کی بنیادوں کا امتحان ہے۔اگر آج تسمیہ کے لیے انصاف نہ ملا تو کل ہر بیٹی اسی اندھیرے کی زد میں ہوگی۔تسمیہ کی خاموش لاش سوال کر رہی ہے:کیا انصاف صرف طاقتور کے لیے ہے؟کیا کمزور کی آواز کبھی سنی نہیں جائے گی؟ہم سب پر فرض ہے کہ تسمیہ کی پکار کو دبنے نہ دیں،کیونکہ جب بیٹیوں کا خون بولتا ہے، تو قومیں یا تو بیدار ہوتی ہیں، یا ہمیشہ کے لیے مر جاتی ہیں۔انصاف برائے تسمیہ سہیل – انصاف برائے ہر بیٹیسپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کے فیصلے کے خلاف حکومت کی نظرثانیپاکستان کے زیرِ انتظام آزاد کشمیر کے شہری اور طلباء گزشتہ ڈھائی ماہ سے انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم، تعلیم، روزگار اور روزمرہ رابطوں پر کیا اثرات پڑ رہے ہیں؟شاداب سکندر خان نے بیرسٹر افتخار گیلانی کو ٹیکنوکریٹ کی مخصوص نشست کا ٹکٹ ملنے پر مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔جب جب بھی ہوا کی بیٹی پر ظلم ہوا، تاریخ نے سوال اٹھایا۔آج وہی سوال ننھی تسمیہ سہیل کے خون سے لکھی ہوئی پکار بن گیا ہے۔تسمیہ صرف ایک بچی نہیں تھی، وہ معصومیت، اعتماد اور امید کی علامت تھی۔لیکن ظلم کی سیاہ رات نے اس کی زندگی چھین کر پوری انسانیت کو جھنجھوڑ دیا۔یہ صرف تسمیہ کا قتل نہیں، یہ ہماری غیرت، انصاف اور سماج کی بنیادوں کا امتحان ہے۔اگر آج تسمیہ کے لیے انصاف نہ ملا تو کل ہر بیٹی اسی اندھیرے کی زد میں ہوگی۔تسمیہ کی خاموش لاش سوال کر رہی ہے:کیا انصاف صرف طاقتور کے لیے ہے؟کیا کمزور کی آواز کبھی سنی نہیں جائے گی؟ہم سب پر فرض ہے کہ تسمیہ کی پکار کو دبنے نہ دیں،کیونکہ جب بیٹیوں کا خون بولتا ہے، تو قومیں یا تو بیدار ہوتی ہیں، یا ہمیشہ کے لیے مر جاتی ہیں۔انصاف برائے تسمیہ سہیل – انصاف برائے ہر بیٹیسپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کے فیصلے کے خلاف حکومت کی نظرثانیپاکستان کے زیرِ انتظام آزاد کشمیر کے شہری اور طلباء گزشتہ ڈھائی ماہ سے انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم، تعلیم، روزگار اور روزمرہ رابطوں پر کیا اثرات پڑ رہے ہیں؟شاداب سکندر خان نے بیرسٹر افتخار گیلانی کو ٹیکنوکریٹ کی مخصوص نشست کا ٹکٹ ملنے پر مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔

جب جب بھی ہوا کی بیٹی پر ظلم ہوا، تاریخ نے سوال اٹھایا۔آج وہی سوال ننھی تسمیہ سہیل کے خون سے لکھی ہوئی پکار بن گیا ہے۔تسمیہ صرف ایک بچی نہیں تھی، وہ معصومیت، اعتماد اور امید کی علامت تھی۔لیکن ظلم کی سیاہ رات نے اس کی زندگی چھین کر پوری انسانیت کو جھنجھوڑ دیا۔یہ صرف تسمیہ کا قتل نہیں، یہ ہماری غیرت، انصاف اور سماج کی بنیادوں کا امتحان ہے۔اگر آج تسمیہ کے لیے انصاف نہ ملا تو کل ہر بیٹی اسی اندھیرے کی زد میں ہوگی۔تسمیہ کی خاموش لاش سوال کر رہی ہے:کیا انصاف صرف طاقتور کے لیے ہے؟کیا کمزور کی آواز کبھی سنی نہیں جائے گی؟ہم سب پر فرض ہے کہ تسمیہ کی پکار کو دبنے نہ دیں،کیونکہ جب بیٹیوں کا خون بولتا ہے، تو قومیں یا تو بیدار ہوتی ہیں، یا ہمیشہ کے لیے مر جاتی ہیں۔انصاف برائے تسمیہ سہیل – انصاف برائے ہر بیٹی