میری بیٹی تسمیہ سہیل کے بہیمانہ قتل اور اس کے ساتھ ہونے والی درندگی کے بعد پولیس نے انصاف فراہم کرنے کے بجائے اصل مجرموں اور ان کے سہولت کاروں کو بچانے کی کوشش کی۔ اس ناانصافی پر عدم اعتماد کرتے ہوئے ہم نے حکومت آزاد کشمیر کے وزیر اعظم، چیف سیکرٹری اور چیف جسٹس سے مطالبہ کیا تھا کہ ایک آزاد جے آئی ٹی تشکیل دی جائے، جس پر کوئی سیاسی، انتظامی یا بااثر شخص اثر انداز نہ ہو سکے، تاکہ اصل مجرموں کو عوام کے سامنے بے نقاب کیا جائے اور انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے۔

ہماری حکومت آزاد کشمیر سے پرزور مطالبہ ہے کہ یہ جے آئی ٹی زینب قتل کیس کی طرز پر تشکیل دی جائے تاکہ انصاف کی مثال قائم ہو۔

افسوس کہ حکومت اور انتظامیہ جے آئی ٹی بنانے میں تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے اور اصل حقائق سامنے لانے سے گریزاں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر آج تسمیہ سہیل کو انصاف نہ ملا تو کل کسی اور کی بیٹی کے ساتھ بھی یہی ظلم و درندگی دہرائی جا سکتی ہے۔

اسی لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اپنی بیٹی تسمیہ سہیل شہید کے انصاف کے لیے:

📅 10 ستمبر بروز بدھ

⏰ صبح 10 بجے

📍 راسب شہید چوک سے لانگ مارچ کا آغاز کیا جائے گا، جو بشیر ہسپتال نزد شیل پٹرول پمپ والے چوک پر دھرنے کی شکل اختیار کرے گا۔

یہ دھرنا تسمیہ سہیل شہید کے والد اور والدہ کی اپیل پر منعقد کیا جا رہا ہے۔ ہم حلقہ کھوئی رٹہ کے تمام عوام، مرد و خواتین سے عاجزانہ گزارش کرتے ہیں کہ اس مارچ اور دھرنے میں بھرپور شرکت کریں اور ہماری بیٹی کے انصاف کے لیے آواز بلند کریں۔

قیادت:

👨 مرد حضرات کی قیادت: غازی ارسلان فیضان اور تسمیہ سہیل کے والد سہیل احمد کریں گے۔

👩 خواتین کی قیادت: محترمہ نازیہ پرویز راجہ (صدر خواتین ونگ، جموں و کشمیر ہیومن رائٹس) اور تسمیہ شہید کی والدہ کریں گی۔ خواتین کے لیے علیحدہ انتظامات کیے جائیں گے۔

یہ دھرنا اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک حکومت آزاد کشمیر کی طرف سے آزاد جے آئی ٹی کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا جاتا اور تسمیہ سہیل شہید کے اصل قاتلوں اور سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا جاتا۔

✊ آئیں، ہماری بیٹی تسمیہ سہیل کے انصاف کی جدوجہد میں ہمارا ساتھ دیں۔