بریکنگ
*گھوڑا جو سانپ کے زہر کا تریاق تیار کرتا ہے:* دنیا کے کئی خطرناک اور زہریلے سانپ، جن میں کوبرا اور بلیک مامبا جیسے مہلک سانپ بھی شامل ہیں، انسان اور بڑے جانوروں تک کو ہلاک کر سکتے ہیں۔ لیکن ایک حیران کن مخلوق ہے جو ان کے زہر سے بچ جاتی ہے: گھوڑا۔ تحقیق کے مطابق گھوڑے کا مدافعتی نظام سانپ کے زہر کے خلاف خاصی مزاحمت رکھتا ہے۔ اگرچہ سانپ کے کاٹنے کے بعد گھوڑے میں کچھ دنوں تک ہلکی بیماری یا کمزوری کے آثار نظر آ سکتے ہیں، مگر وہ عموماً مکمل صحت یاب ہو جاتا ہے۔ اسی خصوصیت نے گھوڑے کو انسان کے لیے ایک قیمتی ساتھی بنا دیا ہے کیونکہ اسی کی مدد سے سانپ کے زہر کا تریاق (Antivenom) تیار کیا جاتا ہے۔ تریاق بنانے کا طریقہ سب سے پہلے، مختلف زہریلے سانپوں کا زہر لیبارٹری میں محفوظ کیا جاتا ہے۔ اس زہر کی انتہائی کم اور محفوظ مقدار گھوڑے کو انجیکشن کے ذریعے دی جاتی ہے۔ گھوڑے کا مدافعتی نظام ردعمل دے کر اس زہر کے خلاف اینٹی باڈیز بناتا ہے۔ چند دن بعد، گھوڑے کے خون میں یہ اینٹی باڈیز موجود ہوتی ہیں۔ گھوڑے کا خون لیا جاتا ہے، اس میں سے سرخ خون کے خلیے نکال دیے جاتے ہیں، اور پلازما کو پروسیس کر کے تریاق تیار کیا جاتا ہے۔ یہی تریاق زہریلے سانپ کے کاٹے گئے مریضوں کو لگایا جاتا ہے، تاکہ زہر کے اثرات کو روکا جا سکے اور ان کی جان بچائی جا سکے۔ بھارت سمیت دنیا کے کئی ممالک میں ایسی خصوصی لیبارٹریاں قائم ہیں جہاں سینکڑوں گھوڑوں کی دیکھ بھال کی جاتی ہے، تاکہ یہ قیمتی اور زندگی بچانے والا تریاق مسلسل تیار ہو سکے۔ یہ طریقہ کار 1890ء کی دہائی میں پہنچا، جب البرٹ کالمیٹ نے سب سے پہلے گھوڑوں سے اینٹی سیرم تیار کیا تھا۔ اس کے بعد دنیا بھر میں اسی طریقے پر عمل ہوا اور یہ تریاق اب بھی عالمی ادارہ صحت (WHO) کی ضروری ادویات کی فہرست میں شامل ہے۔سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کے فیصلے کے خلاف حکومت کی نظرثانیپاکستان کے زیرِ انتظام آزاد کشمیر کے شہری اور طلباء گزشتہ ڈھائی ماہ سے انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم، تعلیم، روزگار اور روزمرہ رابطوں پر کیا اثرات پڑ رہے ہیں؟شاداب سکندر خان نے بیرسٹر افتخار گیلانی کو ٹیکنوکریٹ کی مخصوص نشست کا ٹکٹ ملنے پر مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔*گھوڑا جو سانپ کے زہر کا تریاق تیار کرتا ہے:* دنیا کے کئی خطرناک اور زہریلے سانپ، جن میں کوبرا اور بلیک مامبا جیسے مہلک سانپ بھی شامل ہیں، انسان اور بڑے جانوروں تک کو ہلاک کر سکتے ہیں۔ لیکن ایک حیران کن مخلوق ہے جو ان کے زہر سے بچ جاتی ہے: گھوڑا۔ تحقیق کے مطابق گھوڑے کا مدافعتی نظام سانپ کے زہر کے خلاف خاصی مزاحمت رکھتا ہے۔ اگرچہ سانپ کے کاٹنے کے بعد گھوڑے میں کچھ دنوں تک ہلکی بیماری یا کمزوری کے آثار نظر آ سکتے ہیں، مگر وہ عموماً مکمل صحت یاب ہو جاتا ہے۔ اسی خصوصیت نے گھوڑے کو انسان کے لیے ایک قیمتی ساتھی بنا دیا ہے کیونکہ اسی کی مدد سے سانپ کے زہر کا تریاق (Antivenom) تیار کیا جاتا ہے۔ تریاق بنانے کا طریقہ سب سے پہلے، مختلف زہریلے سانپوں کا زہر لیبارٹری میں محفوظ کیا جاتا ہے۔ اس زہر کی انتہائی کم اور محفوظ مقدار گھوڑے کو انجیکشن کے ذریعے دی جاتی ہے۔ گھوڑے کا مدافعتی نظام ردعمل دے کر اس زہر کے خلاف اینٹی باڈیز بناتا ہے۔ چند دن بعد، گھوڑے کے خون میں یہ اینٹی باڈیز موجود ہوتی ہیں۔ گھوڑے کا خون لیا جاتا ہے، اس میں سے سرخ خون کے خلیے نکال دیے جاتے ہیں، اور پلازما کو پروسیس کر کے تریاق تیار کیا جاتا ہے۔ یہی تریاق زہریلے سانپ کے کاٹے گئے مریضوں کو لگایا جاتا ہے، تاکہ زہر کے اثرات کو روکا جا سکے اور ان کی جان بچائی جا سکے۔ بھارت سمیت دنیا کے کئی ممالک میں ایسی خصوصی لیبارٹریاں قائم ہیں جہاں سینکڑوں گھوڑوں کی دیکھ بھال کی جاتی ہے، تاکہ یہ قیمتی اور زندگی بچانے والا تریاق مسلسل تیار ہو سکے۔ یہ طریقہ کار 1890ء کی دہائی میں پہنچا، جب البرٹ کالمیٹ نے سب سے پہلے گھوڑوں سے اینٹی سیرم تیار کیا تھا۔ اس کے بعد دنیا بھر میں اسی طریقے پر عمل ہوا اور یہ تریاق اب بھی عالمی ادارہ صحت (WHO) کی ضروری ادویات کی فہرست میں شامل ہے۔سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کے فیصلے کے خلاف حکومت کی نظرثانیپاکستان کے زیرِ انتظام آزاد کشمیر کے شہری اور طلباء گزشتہ ڈھائی ماہ سے انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم، تعلیم، روزگار اور روزمرہ رابطوں پر کیا اثرات پڑ رہے ہیں؟شاداب سکندر خان نے بیرسٹر افتخار گیلانی کو ٹیکنوکریٹ کی مخصوص نشست کا ٹکٹ ملنے پر مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔

*گھوڑا جو سانپ کے زہر کا تریاق تیار کرتا ہے:* دنیا کے کئی خطرناک اور زہریلے سانپ، جن میں کوبرا اور بلیک مامبا جیسے مہلک سانپ بھی شامل ہیں، انسان اور بڑے جانوروں تک کو ہلاک کر سکتے ہیں۔ لیکن ایک حیران کن مخلوق ہے جو ان کے زہر سے بچ جاتی ہے: گھوڑا۔ تحقیق کے مطابق گھوڑے کا مدافعتی نظام سانپ کے زہر کے خلاف خاصی مزاحمت رکھتا ہے۔ اگرچہ سانپ کے کاٹنے کے بعد گھوڑے میں کچھ دنوں تک ہلکی بیماری یا کمزوری کے آثار نظر آ سکتے ہیں، مگر وہ عموماً مکمل صحت یاب ہو جاتا ہے۔ اسی خصوصیت نے گھوڑے کو انسان کے لیے ایک قیمتی ساتھی بنا دیا ہے کیونکہ اسی کی مدد سے سانپ کے زہر کا تریاق (Antivenom) تیار کیا جاتا ہے۔ تریاق بنانے کا طریقہ سب سے پہلے، مختلف زہریلے سانپوں کا زہر لیبارٹری میں محفوظ کیا جاتا ہے۔ اس زہر کی انتہائی کم اور محفوظ مقدار گھوڑے کو انجیکشن کے ذریعے دی جاتی ہے۔ گھوڑے کا مدافعتی نظام ردعمل دے کر اس زہر کے خلاف اینٹی باڈیز بناتا ہے۔ چند دن بعد، گھوڑے کے خون میں یہ اینٹی باڈیز موجود ہوتی ہیں۔ گھوڑے کا خون لیا جاتا ہے، اس میں سے سرخ خون کے خلیے نکال دیے جاتے ہیں، اور پلازما کو پروسیس کر کے تریاق تیار کیا جاتا ہے۔ یہی تریاق زہریلے سانپ کے کاٹے گئے مریضوں کو لگایا جاتا ہے، تاکہ زہر کے اثرات کو روکا جا سکے اور ان کی جان بچائی جا سکے۔ بھارت سمیت دنیا کے کئی ممالک میں ایسی خصوصی لیبارٹریاں قائم ہیں جہاں سینکڑوں گھوڑوں کی دیکھ بھال کی جاتی ہے، تاکہ یہ قیمتی اور زندگی بچانے والا تریاق مسلسل تیار ہو سکے۔ یہ طریقہ کار 1890ء کی دہائی میں پہنچا، جب البرٹ کالمیٹ نے سب سے پہلے گھوڑوں سے اینٹی سیرم تیار کیا تھا۔ اس کے بعد دنیا بھر میں اسی طریقے پر عمل ہوا اور یہ تریاق اب بھی عالمی ادارہ صحت (WHO) کی ضروری ادویات کی فہرست میں شامل ہے۔

*گھوڑا جو سانپ کے زہر کا تریاق تیار کرتا ہے:* دنیا کے کئی خطرناک اور زہریلے سانپ، جن میں کوبرا اور بلیک مامبا جیسے مہلک سانپ بھی شامل ہیں، انسان اور بڑے جانوروں تک کو ہلاک کر سکتے ہیں۔ لیکن ایک حیران کن مخلوق ہے جو ان کے زہر سے بچ جاتی ہے: گھوڑا۔ تحقیق کے مطابق گھوڑے کا مدافعتی نظام سانپ کے زہر کے خلاف خاصی مزاحمت رکھتا ہے۔ اگرچہ سانپ کے کاٹنے کے بعد گھوڑے میں کچھ دنوں تک ہلکی بیماری یا کمزوری کے آثار نظر آ سکتے ہیں، مگر وہ عموماً مکمل صحت یاب ہو جاتا ہے۔ اسی خصوصیت نے گھوڑے کو انسان کے لیے ایک قیمتی ساتھی بنا دیا ہے کیونکہ اسی کی مدد سے سانپ کے زہر کا تریاق (Antivenom) تیار کیا جاتا ہے۔ تریاق بنانے کا طریقہ سب سے پہلے، مختلف زہریلے سانپوں کا زہر لیبارٹری میں محفوظ کیا جاتا ہے۔ اس زہر کی انتہائی کم اور محفوظ مقدار گھوڑے کو انجیکشن کے ذریعے دی جاتی ہے۔ گھوڑے کا مدافعتی نظام ردعمل دے کر اس زہر کے خلاف اینٹی باڈیز بناتا ہے۔ چند دن بعد، گھوڑے کے خون میں یہ اینٹی باڈیز موجود ہوتی ہیں۔ گھوڑے کا خون لیا جاتا ہے، اس میں سے سرخ خون کے خلیے نکال دیے جاتے ہیں، اور پلازما کو پروسیس کر کے تریاق تیار کیا جاتا ہے۔ یہی تریاق زہریلے سانپ کے کاٹے گئے مریضوں کو لگایا جاتا ہے، تاکہ زہر کے اثرات کو روکا جا سکے اور ان کی جان بچائی جا سکے۔ بھارت سمیت دنیا کے کئی ممالک میں ایسی خصوصی لیبارٹریاں قائم ہیں جہاں سینکڑوں گھوڑوں کی دیکھ بھال کی جاتی ہے، تاکہ یہ قیمتی اور زندگی بچانے والا تریاق مسلسل تیار ہو سکے۔ یہ طریقہ کار 1890ء کی دہائی میں پہنچا، جب البرٹ کالمیٹ نے سب سے پہلے گھوڑوں سے اینٹی سیرم تیار کیا تھا۔ اس کے بعد دنیا بھر میں اسی طریقے پر عمل ہوا اور یہ تریاق اب بھی عالمی ادارہ صحت (WHO) کی ضروری ادویات کی فہرست میں شامل ہے۔