بریکنگ
برطانیہ میں قید تارکین وطن آبائی ملک واپس بجھوانے کے نئے معاہدے سے لاعلم، برطانیہ میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد کو حراستی مراکز میں رکھا گیا ہے اور انہیں فرانس کے ساتھ نئے معاہدے کے بارے میں علم نہیں ہے۔ برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق، سیاسی پناہ کے لیے غیر قانونی طور پر برطانیہ پہنچنے کے بعد حراستی مراکز میں قید تارکین وطن کی بڑی تعداد کو ان کے آبائی ملک واپس بھیجنے کے معاہدے سے لاعلم ہے۔ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ برطانیہ اور فرانس کے درمیان نئے معاہدے سے ہزاروں افراد کو غیر قانونی طور پر چینل عبور کرنے سے روکا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک ہفتہ قبل 24 سو کے قریب افراد نے چینل کو عبور کیا، لیبر کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے اب تک تقریباً 50 ہزار افراد برطانیہ میں غیر قانونی طور پر داخل ہو چکے ہیں۔ حراستی مراکز میں قید افراد نے برطانوی میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ وہ بندش کی وجہ سے صدمے میں اور سخت پریشان ہیں، کیونکہ یہ جگہ ایک جیل کی مانند ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ فرانس کے ساتھ برطانیہ کے ون اِن، ون آؤٹ معاہدے کے بارے میں نہیں جانتے، اور انہیں اپنے آبائی ممالک میں خطرات کا سامنا ہے۔ برطانوی ہوم آفس کا کہنا ہے کہ زیر حراست افراد کے پہلے گروپ کو 3 ہفتوں کے اندر فرانس واپس بھیج دیا جائے گا۔سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کے فیصلے کے خلاف حکومت کی نظرثانیپاکستان کے زیرِ انتظام آزاد کشمیر کے شہری اور طلباء گزشتہ ڈھائی ماہ سے انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم، تعلیم، روزگار اور روزمرہ رابطوں پر کیا اثرات پڑ رہے ہیں؟شاداب سکندر خان نے بیرسٹر افتخار گیلانی کو ٹیکنوکریٹ کی مخصوص نشست کا ٹکٹ ملنے پر مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔برطانیہ میں قید تارکین وطن آبائی ملک واپس بجھوانے کے نئے معاہدے سے لاعلم، برطانیہ میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد کو حراستی مراکز میں رکھا گیا ہے اور انہیں فرانس کے ساتھ نئے معاہدے کے بارے میں علم نہیں ہے۔ برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق، سیاسی پناہ کے لیے غیر قانونی طور پر برطانیہ پہنچنے کے بعد حراستی مراکز میں قید تارکین وطن کی بڑی تعداد کو ان کے آبائی ملک واپس بھیجنے کے معاہدے سے لاعلم ہے۔ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ برطانیہ اور فرانس کے درمیان نئے معاہدے سے ہزاروں افراد کو غیر قانونی طور پر چینل عبور کرنے سے روکا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک ہفتہ قبل 24 سو کے قریب افراد نے چینل کو عبور کیا، لیبر کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے اب تک تقریباً 50 ہزار افراد برطانیہ میں غیر قانونی طور پر داخل ہو چکے ہیں۔ حراستی مراکز میں قید افراد نے برطانوی میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ وہ بندش کی وجہ سے صدمے میں اور سخت پریشان ہیں، کیونکہ یہ جگہ ایک جیل کی مانند ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ فرانس کے ساتھ برطانیہ کے ون اِن، ون آؤٹ معاہدے کے بارے میں نہیں جانتے، اور انہیں اپنے آبائی ممالک میں خطرات کا سامنا ہے۔ برطانوی ہوم آفس کا کہنا ہے کہ زیر حراست افراد کے پہلے گروپ کو 3 ہفتوں کے اندر فرانس واپس بھیج دیا جائے گا۔سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کے فیصلے کے خلاف حکومت کی نظرثانیپاکستان کے زیرِ انتظام آزاد کشمیر کے شہری اور طلباء گزشتہ ڈھائی ماہ سے انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم، تعلیم، روزگار اور روزمرہ رابطوں پر کیا اثرات پڑ رہے ہیں؟شاداب سکندر خان نے بیرسٹر افتخار گیلانی کو ٹیکنوکریٹ کی مخصوص نشست کا ٹکٹ ملنے پر مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔

برطانیہ میں قید تارکین وطن آبائی ملک واپس بجھوانے کے نئے معاہدے سے لاعلم، برطانیہ میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد کو حراستی مراکز میں رکھا گیا ہے اور انہیں فرانس کے ساتھ نئے معاہدے کے بارے میں علم نہیں ہے۔ برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق، سیاسی پناہ کے لیے غیر قانونی طور پر برطانیہ پہنچنے کے بعد حراستی مراکز میں قید تارکین وطن کی بڑی تعداد کو ان کے آبائی ملک واپس بھیجنے کے معاہدے سے لاعلم ہے۔ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ برطانیہ اور فرانس کے درمیان نئے معاہدے سے ہزاروں افراد کو غیر قانونی طور پر چینل عبور کرنے سے روکا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک ہفتہ قبل 24 سو کے قریب افراد نے چینل کو عبور کیا، لیبر کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے اب تک تقریباً 50 ہزار افراد برطانیہ میں غیر قانونی طور پر داخل ہو چکے ہیں۔ حراستی مراکز میں قید افراد نے برطانوی میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ وہ بندش کی وجہ سے صدمے میں اور سخت پریشان ہیں، کیونکہ یہ جگہ ایک جیل کی مانند ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ فرانس کے ساتھ برطانیہ کے ون اِن، ون آؤٹ معاہدے کے بارے میں نہیں جانتے، اور انہیں اپنے آبائی ممالک میں خطرات کا سامنا ہے۔ برطانوی ہوم آفس کا کہنا ہے کہ زیر حراست افراد کے پہلے گروپ کو 3 ہفتوں کے اندر فرانس واپس بھیج دیا جائے گا۔

برطانیہ میں قید تارکین وطن آبائی ملک واپس بجھوانے کے نئے معاہدے سے لاعلم، برطانیہ میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد کو حراستی مراکز میں رکھا گیا ہے اور انہیں فرانس کے ساتھ نئے معاہدے کے بارے میں علم نہیں ہے۔ برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق، سیاسی پناہ کے لیے غیر قانونی طور پر برطانیہ پہنچنے کے بعد حراستی مراکز میں قید تارکین وطن کی بڑی تعداد کو ان کے آبائی ملک واپس بھیجنے کے معاہدے سے لاعلم ہے۔ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ برطانیہ اور فرانس کے درمیان نئے معاہدے سے ہزاروں افراد کو غیر قانونی طور پر چینل عبور کرنے سے روکا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک ہفتہ قبل 24 سو کے قریب افراد نے چینل کو عبور کیا، لیبر کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے اب تک تقریباً 50 ہزار افراد برطانیہ میں غیر قانونی طور پر داخل ہو چکے ہیں۔ حراستی مراکز میں قید افراد نے برطانوی میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ وہ بندش کی وجہ سے صدمے میں اور سخت پریشان ہیں، کیونکہ یہ جگہ ایک جیل کی مانند ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ فرانس کے ساتھ برطانیہ کے ون اِن، ون آؤٹ معاہدے کے بارے میں نہیں جانتے، اور انہیں اپنے آبائی ممالک میں خطرات کا سامنا ہے۔ برطانوی ہوم آفس کا کہنا ہے کہ زیر حراست افراد کے پہلے گروپ کو 3 ہفتوں کے اندر فرانس واپس بھیج دیا جائے گا۔