"یہ میری وصیت اور میرا آخری پیغام ہے۔

اگر یہ الفاظ آپ تک پہنچ جائیں تو جان لیں کہ اسرائیل مجھے قتل کرنے اور میری آواز کو خاموش کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔

سب سے پہلے آپ پر سلامتی ہو اور خدا کی رحمتیں اور برکتیں ہوں۔

خدا جانتا ہے کہ جب سے میں نے جبالیہ پناہ گزین کیمپ کی گلیوں میں زندگی کے لیے آنکھیں کھولی، تب سے میں نے اپنے لوگوں کا سہارا اور آواز بننے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں اور اپنی تمام طاقت دی۔ میری امید تھی کہ خدا میری عمر دراز کرے گا تاکہ میں اپنے اہل خانہ اور پیاروں کے ساتھ اپنے اصل قصبے عسقلان (المجدل) واپس جا سکوں۔ لیکن خدا کی مرضی پہلے آئی، اور اس کا حکم حتمی ہے۔۔۔

اپنے آخری پیغام میں، جسے ان کے قتل کے بعد دوستوں نے شیئر کیا، انس الشریف لکھتے ہیں:

’’میں فلسطین کو آپ کے سپرد کرتا ہوں، مسلمانوں کے تاج کا زیور اور دنیا کے ہر آزاد انسان کے دل کی دھڑکن۔

میں اس کے لوگوں اور اس کے نوجوان، مظلوم بچوں کو سپرد کرتا ہوں، جنہیں خواب دیکھنے اور امن اور سکون سے رہنے کا وقت نہیں دیا گیا۔

ان کے پاکیزہ جسموں کو ہزاروں ٹن اسرائیلی بموں اور میزائلوں سے کچل دیا گیا، ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا اور ان کی باقیات دیواروں پر بکھر گئیں۔

میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ پابندیوں سے خاموش نہ رہیں اور نہ ہی سرحدوں سے مفلوج ہوجائیں۔ ملک اور اس کے عوام کی آزادی کے لیے پل بنیں تاکہ ہمارے غاصب وطن پر وقار اور آزادی کا سورج چمکے۔

… اگر میں مر گیا تو اپنے اصولوں پر ثابت قدم رہوں گا۔ میں خدا کو گواہ بناتا ہوں کہ میں اس کے فیصلے پر راضی ہوں، اس سے ملاقات کا وفادار ہوں، اور یقین رکھتا ہوں کہ جو کچھ خدا کے پاس ہے وہ بہتر اور دیرپا ہے۔

اے اللہ مجھے شہداء میں قبول فرما، میرے پچھلے اور آئندہ گناہوں کو معاف فرما، اور میرے خون کو میرے لوگوں اور میرے اہل و عیال کے لیے آزادی کی راہ روشن کرنے والا نور بنا۔۔۔