✍️ تحریر: راجہ ارسلان عابد

آزاد کشمیر کے حلقہ LA-13 کوٹلی 6 میں ایسی ہی ایک سیاسی کہانی جنم لے رہی ہے۔ ایک طرف راجہ ایاز احمد خان، جنہیں مسلم لیگ (ن) کی وراثتی سیاست میں خاص مقام حاصل ہے۔ ان کے والد، راجہ نثار احمد خان، 2016 کے انتخابات میں کامیاب ہوئے۔ پارٹی کے وفادار، تجربہ کار، اور بظاہر پارٹی کے "قدرتی امیدوار"۔

دوسری طرف، شاداب سکندر خان — وہ چہرہ جو پچھلے الیکشن سے صرف 60 دن پہلے منظرعام پر آیا۔ بغیر کسی پارٹی ٹکٹ، تنظیمی سٹرکچر یا وسائل کے، 5,794 ووٹ لے آیا۔ جبکہ ن لیگ کے باقاعدہ امیدوار ایاز احمد خان 10,589 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر رہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی امیدوار کو پارٹی کا مکمل ٹکٹ، قیادت کی تائید اور روایتی سیاسی حمایت حاصل ہو، اور پھر بھی وہ آزاد امیدوار سے کم ووٹ لے — تو قصوروار کون ہے؟

پچھلے دنوں صدر مسلم لیگ ن آزاد کشمیر شاہ غلام قادر اور سینئر نائب صدر مشتاق منہاس نے ایک تقریب میں اشارہ دیا کہ پارٹی ٹکٹ ایاز احمد خان کو ہی دیا جائے گا۔ یہ اعلان پارٹی پالیسی کے عین مطابق لگتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ن لیگ اب بھی وہی پرانی خاندانی اور وراثتی سیاست پر یقین رکھتی ہے؟ یا وہ عوامی حمایت، کارکردگی اور میدان میں موجود حقیقت کو اہمیت دے گی؟

اور یہاں سے تضاد شروع ہوتا ہے۔

جب شاداب سکندر خان نے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا، تو ان کے حامیوں کو "باغی" کہا گیا۔ مگر اسی سانس میں یہ بھی کہا گیا کہ "آپ ن لیگ کو مضبوط کریں، آپ ہمارے ساتھی ہیں"۔

یہ کیسا تضاد ہے کہ ووٹ لینے کے لیے کارکن ن لیگی ہوں، مگر ٹکٹ دینے کے وقت "باغی"؟

کیا پارٹی کو مضبوط کرنے کا حق صرف وفادار ووٹر کا ہے، مگر قیادت کا فیصلہ صرف چند خاندانوں کا؟

یاد رکھیے، شاداب سکندر خان کا خاندان بھی ن لیگ کی سیاست میں پرانا کردار رہا ہے۔ ان کے والد مرحوم چیئرمین اقبال سکندر خان کے گھر میں ہی راجہ نثار احمد خان کی سیاست نے پرورش پائی۔ لیکن وقتِ ریٹائرمنٹ آیا تو وہی چہرے نظرانداز کر دیے گئے۔

حال ہی میں خبریں گردش کر رہی ہیں کہ ایاز احمد خان نے اپنی ذاتی پالیسی کو استعمال کرتے ہوئے اپنے چند کارکنوں کو باقاعدہ ٹاسک دیا کہ ان کے مخالفین کے خلاف سوشل میڈیا محاذ کھولا جائے اور ان کی کردار کشی کی جائے۔ ایسا ہی کچھ دن پہلے راجہ جمیل احمد خان کے خلاف ہوا، اور اس سے پہلے بھی کئی دوسرے افراد اس کا شکار ہو چکے ہیں۔

سوال یہ ہے:

کیا ن لیگ کی قیادت صرف تابعداری چاہتی ہے؟

کیا آزاد کشمیر میں ووٹر کی رائے کو محض کاغذ سمجھا جاتا ہے؟

ایک طرف ایاز احمد خان کا سیاسی ورثہ ہے، اور دوسری طرف شاداب سکندر خان کی زمینی مقبولیت۔ اگر پارٹی نے محض رشتہ داری اور پرانی وابستگیوں کو ترجیح دی، تو یہ ممکن ہے کہ میدان میں وہی نتیجہ دہرایا جائے جو 2021 میں سامنے آیا تھا۔

سیاست میں فیصلے وقتی فائدے کے بجائے طویل المدتی سوچ پر ہونے چاہییں۔

پارٹی کی قیادت کو اب فیصلہ کرنا ہے:

وہ کارکنوں کو باغی کہیں گے، یا نئی قیادت کو موقع دیں گے؟

کیونکہ اگر پارٹی کا نظریہ صرف وفاداری ہے، تو کارکردگی کا کیا ہوگا؟

اگر پارٹی مضبوطی کا نعرہ صرف ووٹ لینے تک ہے، تو پھر پارٹی ٹکٹ کا فلسفہ کس بنیاد پر کھڑا ہے؟